اوڈیشہ کی بی جے پی حکومت میں خواتین غیر محفوظ

,

   

طالبہ کی عصمت ریزی اور خودکشی کیخلاف کانگریس سمیت اپوزیشن کا زبردست احتجاج

بھونیشور ۔17؍جولائی ( ایجنسیز)اوڈیشہ کے ضلع بالاسور میں ایک کالج طالبہ کی مبینہ جنسی ہراسانی اور بعد میں خودکشی کے واقعہ کے خلاف عوامی غصہ کم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ انصاف نہ ملنے پر خود کو آگ لگا کر جان دینے والی اس طالبہ کے معاملے پر جمعرات کو ریاست بھر میں 12 گھنٹے کا بند رکھا گیا جس کی کال کانگریس نے دی تھی اور دیگر 7 سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی۔بند کا سب سے زیادہ اثر ریاستی بھونیشور، کٹک، پوری، جٹنی، بھدرک اور دیگر شہروں میں دیکھنے کو ملا۔ کئی اہم سڑکوں پر مظاہرین نے ناکہ بندی کی، ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی اور سڑکوں پر وہیکل کی آمد و رفت بہت کم رہی۔ اگرچہ ضروری خدمات جیسے ایمبولینس، ہاسپٹلس، دوا اور دودھ کی دکانیں بند سے مستثنیٰ رہیں لیکن عام بازار، اسکول اور تجارتی ادارے مکمل طور پر بند رہے۔ذرائع کے مطابق بند کی قیادت کرنے والوں میں کانگریس، بائیں محاذ کی جماعتیں بھاکپا، ماکپا، ماکپا (مالے)، فارورڈ بلاک، راشٹریہ جنتا دل، سماجوادی پارٹی اور این سی پی شامل تھیں۔ مظاہرین نے ریاستی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے طالبہ کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔ بھونیشور میں کئی اہم چوراہوں اور سڑکوں پر بند کے حامیوں نے ڈھول نگاڑوں کے ساتھ مظاہرہ کیا اور بند کو کامیاب بنایا۔کانگریس لیجسلیٹو پارٹی کے لیڈر رام چندر قدم نے الزام لگایا کہ جب سے ریاست میں بی جے پی حکومت آئی ہے، خواتین غیر محفوظ ہیں۔ روزانہ 15 سے زیادہ خواتین کے ساتھ زیادتی کی واردات ہو رہی ہے اور حکومت اسے روکنے میں پوری طرح ناکام ہے۔