او بی سی کمیونٹی کیخلاف راہول کا تبصرہ ذات پات کی ذہنیت کا عکاس: نڈا

   

راہول گاندھی کی انا بہت بڑی اور سمجھ بہت چھوٹی ہے ، بی جے پی صدر کے متعدد ٹوئیٹس

نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر جے پی نڈا نے دیگر پسماندہ ذاتوں (او بی سی برادری) کے بارے میں تبصرہ کے لئے جمعہ کو کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی تنقید کی اورکہا کہ او بی سی برادری کا چوروں سے موازنہ کرنا ان کی قابل رحم اور ذات پات کی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے ۔ نڈا نے ٹویٹ کیا، ”راہول گاندھی کی انا بہت بڑی اور سمجھ بہت چھوٹی ہے ۔ اپنے سیاسی فائدے کے لیے انہوں نے پوری او بی سی برادری کی توہین کی۔ انہیں چور کہا۔ سماج اور عدالت کی طرف سے بار بار سمجھانے اور معافی مانگنے کے آپشن کو بھی انہوں نے نظر انداز کیا اور او بی سی کمیونٹی کے جذبات کو مسلسل ٹھیس پہنچائی۔انہوں نے کہا، ”کل سورت کی عدالت نے راہول کو او بی سی کمیونٹی کے تئیں ان کے قابل اعتراض بیان کے لئے سزا سنائی۔ لیکن راہول اور کانگریس پارٹی اب بھی اپنی انا کی وجہ سے مسلسل اپنے بیان پر قائم ہیں اور او بی سی برادری کے جذبات کو مسلسل ٹھیس پہنچا رہے ہیں۔ پوری او بی سی برادری راہل سے اس توہین کا بدلہ جمہوری طریقے سے لے گی۔بی جے پی صدر نے کہا کہ گاندھی کو حقائق سے ہٹ کر من گھڑت الزامات لگانے کی عادت ہے ۔ 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے راہول نے رافیل کے نام پر ملک کو الجھانے کی کوشش کی۔ معزز سپریم کورٹ نے اس کے لیے سرزنش کی اور مسٹر گاندھی کو من گھڑت الزام کے لیے غیر مشروط معافی مانگنی پڑی۔ اس کے بعد ‘چوکیدار چور ہے ‘ کا شور مچایا، جس پر میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اراکین نے بھی اعتراض کیا۔ اس نعرے پر عوامی عدالت نے گاندھی کو 2019 کے انتخابات میں سخت سرزنش کی اور کانگریس کو بری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
طاقت الفاظ میں ہونی چاہیے : دھنکھڑ
نئی دہلی : راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے جمعہ کو ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ ایوان میں اپنے رویہ میں سنجیدہ رہیں اور کہا کہ طاقت آواز میں نہیں بلکہ الفاظ میں ہونی چاہیے ۔ دھنکھڑ نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران کہا کہ ارکان کو اپنے مسائل کو سنجیدگی سے اٹھانا چاہئے اور الفاظ میں وزن لانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اپنے الفاظ میں طاقت رکھو، اپنی آواز میں نہیں کیونکہ فصلیں بارش سے اگتی ہیں سیلاب سے نہیں۔اس کے بعد دھنکھڑنے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ شاعر ہیں لیکن اتنا مت بولو کہ لوگ خاموش رہنے کا انتظار کریں، اتنا بول کر خاموش رہو کہ لوگ دوبارہ بولنے کا انتظار کریں۔حکمران جماعت اور اپوزیشن کے ارکان ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں اور کوئی کام نہیں ہو رہا۔