مسلمانوں کو تعلیم و روزگار میں مواقع کی فراہمی کیلئے اقدامات کرنے ٹی آر ایس حکومت سے خواہش
کریم نگر : ریاست تلنگانہ کے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو مرکزی سطح پر تعلیم اور روزگار میں او بی سی کوٹہ کے تحت بی سی ای تحفظات کی شمولیت کے لئے آج ٹی آر ایس سینئر لیڈر و سابق کوآپشن ممبر زیڈ پی ایڈوکیٹ محمد جمیل کی صدارت میں اردو بھون کریم نگر پر کل جماعتی مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں اور دانشوران ملت نے اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے سی آر سے پرزور مطالبہ کیاکہ وہ مرکز کے او بی سی تحفظات کے کوٹہ میں تلنگانہ کے بی سی ای تحفظات میں شامل کرلیں۔ واضح رہے کہ مودی حکومت نے حال ہی میں او بی سی کے تحت 37% تحفظات کا اعلان کیا اور ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ او بی سی تحفظات میں تمام طبقات کی شمولیت کرتے ہوئے تحفظات کا اعلان کریں۔ صدر مسلم سینئر سٹیزنس انجینئر نسیم الدین نے ریاستی حکومت سے بلا تاخیر اس مطالبہ کو قبول کرنے کی اپیل کی۔ صدر مسلم گرائجویٹس اسوسی ایشن مصطفی علی انصاری نے سی ایم سے مطالبہ کیاکہ وہ بلاتاخیر کابینہ کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اقلیتوں کے اس اہم مطالبہ کی یکسوئی کریں۔ کمال کنٹراکٹر، حضرت کریم اللہ شاہ درگاہ متولی، منصور توکلی، سوڈا ڈائرکٹر شیخ یوسف، صدر انجمن ترقی اردو کریم نگر، سرور شاہ بیابانی، نمائندہ ایس آئی او محمد اشفاق، دارالخیر ویلفیر سوسائٹی کریم نگر نمائندہ ڈاکٹر عبدالقدوس اور دیگر دانشوروں نے مخاطب کرتے ہوئے محمد جمیل کی جانب سے اس اہم موضوع پر کریم نگر میں اجلاس منعقد کرنے پر ایڈوکیٹ جمیل کی ستائش کی اور تمام مطالبات کی ریاستی وزیر بی سی ویلفیر گنگولا کملاکر سے یکسوئی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ محمد جمیل نے کہاکہ کریم نگر تلنگانہ تحریک کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ یہیں سے تلنگانہ تحریک کا آغاز ہوا اور اس شہر کریم نگر سے آج تلنگانہ کے مسلم اقلیتوں کے لئے تعلیم اور ملازمت میں او بی سی کوٹہ کے تحت بی سی ای تحفظات کی شمولیت کے لئے آواز اُٹھائی جارہی ہے تاکہ مسلم طلباء کو تعلیم اور روزگار میں مواقع حاصل ہوسکیں۔ ایڈوکیٹ الطاف احمد سکریٹری مسلم گرائجویٹس اسوسی ایشن تلنگانہ میں نامزد عہدوں پر مسلمانوں کو تحفظات دینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس کے فوری بعد نامزد عہدوں پر مسلمانوں کو تحفظات دینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس کے فوری بعد مسلم نمائندہ وفد نے ریاستی وزیر گنگولا کملاکر کی رہائش گاہ پہونچ کر تحریری یادداشتیں پیش کیں۔ وزیر موصوف نے یکسوئی کا تیقن دیا۔
