129 ملازمین پریشان حال، نئی موٹر کاروں کی خریدی اور چند ملازمین کو باقاعدہ بنانے عہدیداران سرگرم
حیدرآباد۔7۔مارچ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے لائبریری اور کمپیوٹر سنٹرس میں خدمات انجام دینے والوںکو تنخواہ جاری کرنے کے لئے اردو اکیڈیمی کے پاس بجٹ نہیں ہے اور نئی کاریں خریدنے کے لئے بجٹ ہے۔ 129 عارضی ملازمین کی خدمات کے حصول کے باوجود 9 ماہ سے ان کی تنخواہ جاری کرنے کے لئے اکیڈیمی کے عہدیدار اپنے اعلیٰ عہدیداروں سے نمائندگی نہیں کرپا رہے ہیں لیکن 5 عارضی ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود کو مسلسل مکتوبات روانہ کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان ملازمین کو جو کہ اردو زبان سے ہی واقف نہیں ہیں ان کے بغیراردواکیڈیمی کے کام ٹھپ ہورہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود ریاست میں اقلیتوں کی بہبود تو دور اپنے محکمہ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی بہبود کو یقینی بنانے میں بھی ناکام ہوچکا ہے کیونکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے 2 ادارہ جات تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اور تلنگانہ اردواکیڈیمی کے درمیان کنٹراکٹ ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کے مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام محکمہ اقلیتی بہبود سے کیا توقع کی جاسکتی ہے!تلنگانہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات نہ کئے جانے سے متعلق صورتحال سے آگہی کا جائزہ لینے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ کی کارکردگی کو جان بوجھ کر متاثر کرتے ہوئے محکمہ کو بدنام کرنے کی ساز ش کی جا رہی ہے تاکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے مختص بجٹ کی عدم اجرائی سے متعلق سوالات کے بجائے محکمہ کی کارکردگی کو نشانہ بنایا جاسکے۔تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے مختلف مراکز میں خدمات انجام دینے والے 129 ملازمین جن کی معمولی تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں متعدد نمائندگیوں کے باوجود 9 ماہ سے ان کی تنخواہیں جاری نہ کئے جانے پر ان ملازمین نے اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس‘ جناب محمد علی شبیر مشیر حکومت برائے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی و اقلیتی طبقات کے علاوہ نائب صدر ٹمریز فہیم قریشی سے اپیل کی کہ وہ اگر ان کی تنخواہوں کی اجرائی یقینی نہیں بناسکتے ہیں تو کم از کم ریاستی حکومت کی جانب سے غریب و مستحق افراد کو دیئے جانے والے رمضان کے تحفہ کی اجرائی کو یقینی بنائیں تاکہ وہ بھی رمضان کی خوشیاں منا سکیں۔ کنٹراکٹ ملازمین جو اردو اکیڈیمی کے لائبریریز اور کمپیوٹر سنٹرس میں خدمات انجام دے رہے ہیں اپنی معمولی تنخواہوں سے پریشان ہیں اور اب انہیں 9ماہ سے تنخواہ جاری نہ کرتے ہوئے نئے مسائل کا شکار بنایا جاچکا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ماہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینہ کے دوران سود پر قرض حاصل کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔3