اُردو اکیڈیمی کے انعام یافتہ اُردو اساتذہ دو ماہ سے انعامی رقم سے محروم

   

کاغذی چیکس پر اکتفا، صبر آزما امتحان پر اُردو اکیڈیمی کی بے حسی
حیدرآباد 5 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی ہر طبقہ پر حکومت مہربان ہوچکی ہے لیکن اُردو میڈیم اساتذہ گزشتہ دو ماہ سے اپنی انعامی رقم کے انتظار میں ہے۔ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے مختلف اسکیمات کے تحت بجٹ جاری کیا لیکن تلنگانہ اسٹیٹ اُردو اکیڈیمی پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے جس کے نتیجہ میں اُردو میڈیم اساتذہ گزشتہ دو ماہ سے اپنی انعامی رقم کے بینک میں جمع ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ صدر اُردو اکیڈیمی ایم کے مجیب الدین کی جانب سے محکمہ فینانس کے اعلیٰ عہدیداروں سے بارہا نمائندگی کے باوجود بھی انعامی رقم کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی تلنگانہ اُردو اکیڈیمی نے 6 اگسٹ کو گزشتہ 3 برسوں کے بیسٹ ٹیچر ایوارڈس پیش کئے تھے۔ مختلف زمرہ جات کے تحت 214 اساتذہ کو بیسٹ ٹیچر ایوارڈ پیش کیا گیا جن کا تعلق اسکول، کالجس اور یونیورسٹیز سے ہے۔ انعامی رقم کے تحت فی کس 25 ہزار روپئے کا اعلان کیا گیا اور اِس رقم کے کاغذی چیکس تقریب میں حوالے کئے گئے۔ 2 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود انعامی رقم ایوارڈ یافتگان کے بینک اکاؤنٹس میں جمع نہیں ہوئی ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ کل 6 اکٹوبر کو انتظار کے 2 ماہ مکمل ہوجائیں گے۔ وہ روزانہ اپنے بینک اکاؤنٹس کا موقف چیک کررہے ہیں تاکہ رقم کے جمع ہونے کی اطلاع مل سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایوارڈ یافتہ اساتذہ اُردو اکیڈیمی کے عہدیداروں سے ربط میں ہیں لیکن اُنھیں خاطر خواہ جواب نہیں مل رہا ہے۔ اکیڈیمی کے عہدیدار ہمیشہ دو دن میں رقم منتقلی کا تیقن دے رہے ہیں لیکن دو دن گزر کر دو ماہ ہوگئے لیکن انتظار ختم نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ کو یقینی بنائے بغیر ہی اُردو اکیڈیمی نے ایوارڈس پیش کردیئے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اکیڈیمی کا بجٹ تو موجود ہے لیکن محکمہ فینانس کے عہدیدار اجرائی سے گریز کررہے ہیں۔ سابق میں مخدوم ایوارڈس اور کارنامہ حیات ایوارڈس کے انعام یافتگان کو بھی انعامی رقم کے لئے دو ماہ تک انتظار کرنا پڑا تھا۔ اکیڈیمی نے 11 جون کو 5 اہم شخصیتوں کو مخدوم ایوارڈ اور 21 شخصیتوں کو کارنامہ حیات ایوارڈس پیش کئے تھے۔ مخدوم ایوارڈ کے تحت 2 لاکھ روپئے جبکہ کارنامہ حیات ایوارڈ کیلئے فی کس 50 ہزار روپئے انعامی رقم کے کاغذی چیک حوالے کئے گئے تھے۔ دو ماہ تک صبر آزما انتظار کے بعد انعامی رقم بینک اکاؤنٹ میں جمع کی گئی۔ اب جبکہ ایوارڈ یافتہ اساتذہ کے انتظار کو بھی دو ماہ مکمل ہوچکے ہیں اُنھیں اُمید ہے کہ گزشتہ ایوارڈ ایوارڈ یافتگان کی طرح اُنھیں بھی بہت جلد انعامی رقم حاصل ہوجائے گی۔ ایوارڈ اور انعامی رقم کا چیک حاصل کرنے کے بعد رقم کیلئے دو ماہ تک انتظار کرنا یقینا ایک صبر آزما مرحلہ ہے۔