اُردو دانی، زبان دانی، انشاء کے امتحانات میں ایک لاکھ سے زائد امیدواروں کی شرکت

,

   

Ferty9 Clinic

نئی نسل کو اُردو سے واقف کروانے عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کی کاوشیں بے حد معاون، مفتی صادق محی الدین فہیم اور دیگر معززین کے تاثرات

حیدرآباد۔/28 جولائی، ( سیاست نیوز) عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر اہتمام اردو دانی، زبان دانی، انشاء کے امتحانات کا حیدرآباد و سکندرآباد اور تلنگانہ کے علاوہ مختلف ریاستوں کرناٹک، مہاراشٹرا، لکھنؤ، میسور ، ایم پی ، رائے پور، میتھلی، چٹگوپہ اور بیرون ملک امریکہ کے شہر شکاگو میں انعقاد عمل میں آیا۔ اس میں ایک لاکھ 8 ہزار 541 امیدواروں نے شرکت کی۔ مراکز امتحانات کی تعداد 507 تھی۔ امتحانی مراکز کا ماہرین، مشاہرین حضرات نے مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے تاثرات قلمبند کئے۔ مفتی صادق محی الدین فہیم نے مختلف مراکز میں اردو امتحان میں شریک ہونے والے طلبہ سے ان کے خیالات جانتے ہوئے اپنے تاثرات میں لکھا کہ ادارہ سیاست اور عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ ملک بھر کا واحد ادارہ ہے جو اردو کے فروغ و بقاء اور استحکام کیلئے ایسے امتحانات ہر سال پابندی کے ساتھ منعقد کرتے ہوئے نئی نسل کو اردو زبان سے واقف کرانے کیلئے عملی اقدامات کررہا ہے۔ انہوں نے عابد علی خان صاحب اور محبوب حسین جگر مرحومین کی خدمات کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا لگایا ہوا پودا ایک ثمر آور درخت بن چکا ہے اور لاکھوں نونہال اردو زبان اور تحریر سے واقف ہورہے ہیں۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر ’ سیاست‘ ، جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر ’سیاست‘ اور جناب عامر علی خان نیوزا یڈیٹر ’سیاست‘ کی شخصی دلچسپی سے یہ امتحانات نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہورہے ہیں ۔ پروفیسر محمد انور الدین سابق صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد نے جو ان امتحانات کے نگرانکار ہیں ان امتحانات کو انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے ذریعہ نئی نسل جو انگریزی تعلیم کے سبب اردو سے بے بہرہ اور ناآشنا ہوتی جارہی ہے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو نئی نسل کو اردو سے واقف ہونے کا بھرپور موقع ملے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عابد علی خان ایجوکیشنل ٹرسٹ کے زیر سرپرستی اردو دانی، زبان دانی اور انشاء کے امتحانات کی تیاری کیلئے مختلف مقامات پر اردو سکھانے کے مراکز بنائے گئے انہیں مفت کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس سے نہ صرف اردو داں طبقہ بلکہ غیر مسلم جو اردو سے دلچسپی رکھتے ہیں وہ بھی مستفید ہورہے ہیں۔ ان امتحانات میں شرکت کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے اس لئے اس میں کمسن معصوم بچوں سے لے کر معمر حضرات شرکت کرتے ہوئے اردو سے اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان امتحانات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ بعض اعلیٰ عہدیدا ر اردو سیکھنے کیلئے اس میں شرکت کئے اور غیر مسلم لڑکے ؍ لڑکیاں ، خواتین و حضرات نے اپنی خوشنودی کا اظہار کیا۔ شاعری کا ذوق رکھنے والے اردو سے واقف ہونے کیلئے اردو امتحانات کے ذریعہ اردو سے لطف اندوز ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک دس لاکھ 20 ہزار 757 امیداروں نے ان امتحانات میں شرکت کی۔ ڈان ہائی اسکول ملک پیٹ اردو امتحانات کا ایسا مرکز ہے جہاںہر دفعہ سب سے بڑی تعداد میں لڑکے ؍ لڑکیاں حصہ لیتی ہیں۔ جناب فضل الرحمن خرم سکریٹری ؍ ڈائرکٹر کے زیر نگرانی اس مرکز پر اردو سکھانے کا مستقل مرکز قائم ہے اور ان کے والد محترم رضی الدین کے مرتب کردہ اردو سیکھنے کتابیں بے حد مفید ہیں۔مرکز محبوبیہ اسلامی اسکول نزد بنگلہ بینی دبیر پورہ حیدرآبادمیں 385 امیدواروں نے امتحان لکھا۔ مرکز مدرسہ دینیہ رشیدیہ و شاہ حسینؒ واقع الاوہ بی بی بیرون دبیر پورہ پر 106 طلبہ نے شرکت کی۔ ان مدارس میں قاری محمد دستگیر خاں ( بانی و مہتمم ) محبوبیہ اسلامی اسکول، جناب ڈاکٹر سید شاہ یوسف حسین قادری ( صدر سوسائٹی ) مدرسہ دینیہ و شاہ حسین ؒ، جناب علی الدین عارف مجاور الاوہ بی بی کی موجودگی میں عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ ( ادارہ سیاست ) کے زیر اہتمام ، ادارہ ادبیات اردو کے اشتراک سے ابتدائی تین درجات اردو دانی، زبان دانی اور انشاء اردو امتحانات کا انعقاد عمل میں آیا۔ لڑکوں کے سیکشن میں ممتحن کے فرائض جناب غلام متین الدین علی خاں، جناب محمد مصطفی ، جناب محمد غوث الدین، جناب عبدالعزیز، جناب فتح محمد، جناب سید ابو طاہر، لڑکیوں کے سیکشن میں محترمہ ثمرین ظہیر، محترمہ عائشہ سلطانہ، محترمہ واسعہ فاطمہ ، محترمہ بشریٰ سلطانہ نے اردو کی ترقی و ترویج کیلئے رضاکارانہ خدمات انجام دیئے۔ ڈاکٹر سید شاہ یوسف حسین قادری نے اپنے تاثرات میں کہا کہ عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے اردو کی ترقی کی کامیاب کوشش جاری ہے۔ جناب علی الدین عارف نے بتایا کہ اردو کی ترقی و ترویج کیلئے عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کے جناب زاہد علی خاں، جناب ظہیر الدین علی خاں، جناب عامر علی خاں اور ان کے رفقاء قابل مبارکباد ہیں۔ مدرسہ عرشیہ رضوان شاہین نگر، دینی تعلیمی و صنعتی تنظیم ملک پیٹ، اشرف المدارس یاقوت پورہ پر طلبہ جوش و خروش سے امتحان دیئے۔ کینوسیس اسکول پنجہ شاہ میں خیر النساء علیم کی زیر نگرانی طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ امتحان دیا۔ اطہر علی اور شہناز نے معاونت کی۔ وفد میں شیخ نظام الدین لئیق بھی شامل تھے۔ ان امتحانات میں اب تک کئی لاکھ طلبہ بلا تخصیص مذہب و ملت شرکت کرچکے ہیں۔ اس بار ان اردو امتحانات میں ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد طلبہ ملک کی دیگر ریاستوں کے علاوہ متحدہ ریاست ہائے امریکہ سے شرکت کررہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک وفد جناب بشیر الدین فاروقی سابق ڈپٹی ڈی ای او کی سرکردگی میں شہر حیدرآباد کے تین تعلیمی اداروں مدرسہ رحمت عالم شبلی گنج دودھ باؤلی ، کلپٹرک مشن ہائی اسکول خواجہ پہاڑی تاڑبن اور ایم ایس مشن ہائی اسکول حسن نگر کا دورہ کیا ۔ اس دورہ میں ڈاکٹر جہانگیر احساس، ڈاکٹر سیدہ نسیم سلطانہ اسسٹنٹ پروفیسر اردو ویمنس کالج، ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی، ممتاز مزاحیہ شاعر سردار اثر، طالب علم محمد خضر احمد، مرلی کرشنا شامل تھے۔ وفد نے مدرسہ رحمت عالم کا معائنہ کیا جس میں مدرسہ کے منتظم جناب محمد تحسین امام جو ایک سماجی جہد کار بھی ہیں نے بتایا کہ ان کے یہاں کئی طلبہ نے ان امتحانات کے لئے اپنے نام درج کروائے مگر بونال فیسٹول کی وجہ سے ایک بڑی تعداد اس میں شرکت نہیں کرسکی۔ اس سنٹر پر ایک طالبہ سیدہ ام جویریہ نے ڈاکٹر جہانگیر احساس کو بتایا کہ وہ انٹر میڈیٹ تک تعلیم حاصل کرچکی ہے اور اردو سے بھی کما حقہ واقفیت رکھتی ہے مگر اس میں مزید عبور حاصل کرنے کیلئے اس نے اردو دانی کا امتحان لکھنا ضروری سمجھا۔ ام جویریہ نے بتایا کہ وہ مزید اردو امتحانات لکھنے کی خواہشمند ہے تاکہ اردو زبان پر عبور حاصل ہوجائے۔ سنٹر نے نگرانکار حسنیٰ بیگم اور نیلوفر نے امتحانات کے انتظامات کو قطعیت دینے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تحسین امام نے وفد سے کہا کہ اگر ادارہ سیاست جو طلبہ امتحانات میں شرکت کرنے سے قاصر رہے ان کے لئے اردو امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنائے تو ان کی ہمت افزائی ہوگی کیونکہ کافی دنوں سے انہوں نے ان امتحانات کی تیاری کی تھی۔ اس طرح وفد نے اپنے دورہ کلپٹرک مشن ہائی اسکول میں پایا کہ یہاں غیر مسلم طلبہ کی ایک بڑی تعداد اردو زبان سیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اس بار یہاں سے کم و بیش پانچ غیر مسلم طلبہ نے اردو دانی، اردو زبان دانی اور اردوانشاء میں شرکت کی۔ مذکورہ اسکول میں اردو بحیثیت زبان اول پڑھائی جاتی ہے۔ یہاں اردو اور ہندی زبان اول کے طور پر جملہ 400 طلبہ پڑھتے ہیں جس میں نصف تعداد اردو کو زبان اول کے طور پر پڑھتی ہے۔ یہاں کی معلمہ سیدہ بتول فاطمہ ( ایم اے اردو پنڈت ) اردو کے تئیں بلند عزائم رکھتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ان کے یہاں طلبہ کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو ہندی زبان اول کی حیثیت سے پڑھتی ہے مگر وہ بھی اردو پڑھنے اور لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایسے طلبہ میں مرلی وریش متعلم جماعت چہارم، بی آکاش ، کے نتیش جماعت نہم کے علاوہ جماعت پنجم کے طالب علم شویتا نے اردو کے مختلف اردو امتحانات میں شرکت کی۔ ان طلبہ نے وفد کے دیگر حضرات کو بتایا کہ انہیں اردو سے بہت دلچسپی ہے اور یہ زبان ان کے لئے آپسی رشتوں کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی۔ اس طرح اس سنٹر پر ایک بڑی تعداد ایسے طلبہ کی بھی دیکھی گئی جن کی مادری زبان تو اردو ہے مگر انہوں نے ہندی کو زبان اول کو اختیار کی وہ بھی اپنی زبان سیکھنے میں حددرجہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ وفد کا آخری پڑاؤ حسن نگر میں واقع ایم ایس مشن ہائی اسکول تھا جہاں جناب شوکت کی زیر نگرانی کم و بیش 310 طلبہ نے ان اردو امتحانات میں حصہ لیا جس میں طلبہ کے ساتھ ان کے اولیاء نے شرکت کی۔ اس اسکول میں ایک نابینا طالبہ صالحہ بیگم نے بھی اردو دانی کا امتحان تحریر کیا۔ اس نابینا طالبہ کی اردو سے دلچسپی کو دیکھتے ہوئے وفد دنگ رہ گیا۔ شوکت نے وفد کو بتایا کہ ان کے یہاں نرسری سے صرف جماعت سوم تک ہی ہندی و تلگو زبان پڑھانے کی سہولت رکھی گئی ہے جبکہ تیسری جماعت سے لے کر دسویں تک طلبہ کو لازمی طور پر اردو بطور زبان اول پڑھائی جاتی ہے۔ جس کے نہایت ثمر آور نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ڈاکٹر حافظ صابر پاشاہ قادری خطیب مسجد حج ہاوز نے مختلف مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے امتحانات کے انعقاد کی ستائش کی۔ محبوب حسین جگر ہال احاطہ سیاست میں 100 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ محترمہ منور خاتون، ڈاکٹر نکہت آرا شاہین، نجمہ سلطانہ ، ڈاکٹر محمد عبدالنعیم اور شیخ محمد اسمعیل ریسرچ اسکالر ( عثمانیہ یونیورسٹی ) پر مشتمل وفد شہر کے مختلف مراکز کا معائنہ کیا۔جس میں اقراء مشن ہائی اسکول نواب صاحب کنٹہ اور یڈورڈ مشن اسکول شاستری پورم کا معائنہ کیا گیا جہاں پر تقریباً 733 طلباء و طالبات نے امتحانات میں شرکت کی۔ منیرہ نے انٹر میڈیٹ کامیاب کیا اور لنگویج ہندی تھی۔ منیرہ اردو زبان سیکھنے کے شوق سے اس امتحان میں شرکت کی۔ شاستری پورم کے ایڈرائیڈ اسکول کی پرنسپل سیدہ فرحین صاحبہ کا کہنا ہے کہ طلباء و طالبات دوسری زبان کے طور پر عربی زبان لینا چاہتے ہیں صرف مارکس حاصل کرنے کیلئے ۔ انہوں نے اہل ادب سے گذارش کی ہے کہ نوجوان قوم جو بے راہ روی کا شکار ہے ان کو راہ راست پر لانے کا ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے اور وہ اردو سے نسبت ہے۔ اردو کے سوالیہ پرچے کو آسان بناکر کالج کے طلباء و طالبات کو اس طرف راغب کریں۔ جناب محمد وقار کی نگرانی میں اقراء مشن ہائی اسکول اور شاستری پورم کے ایڈرائڈ مشن اسکول کا معائنہ کیا گیا اس میں ڈاکٹر نکہت آرا شاہین لکچرر سٹی کالج حیدرآباد ، ڈاکٹر محمد عبدالنعیم گورنمنٹ ہائی اسکول اردو شریف ، ڈاکٹر شیخ محمد اسمعیل پرنسپل اہل بیت ہائی اسکول و جونیر کالج اور ڈاکٹر نجمہ سلطانہ نے ان اداروں کا معائنہ کیا۔ایک وفد جو ڈاکٹر شیخ سیادت علی، ڈاکٹر محمد اسمعیل ، محمد برکت علی اور محمد ریاض احمد پر مشتمل تھا جملہ 4 سنٹرس ڈان ہائی اسکول ملک پیٹ، دینی تعلیم صنعت و تنظیم اشرف المدارس ہائی اسکول یاقوت پورہ اور مرکز انجمن نسوان پرانی حویلی کا معائنہ کیا۔ طلباء و طالبات اور اساتذہ سے ملنے اور استفسار کرنے کے بعد محسوس کیا گیا کہ بڑی محنت اور لگن سے اردو زبان کو پڑھنا اور لکھنا سکھایا جارہا ہے جس میں معمر حضرات کے علاوہ غیر مسلم طلباء و طالبات کو بھی اردو زبان سیکھنے میں دلچسپی محسوس کی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روز نامہ ’سیاست‘ قابل مبارکباد ہیں جو اردو زبان کی بقاء کیلئے ضروری امتحانات منعقد کررہے ہیں۔ ایوان خواتین مراد نگر انچارج محترمہ توقیر فاطمہ مہر النساء، جدارا انٹرنیشنل کانسپٹ اسکول سرور نگر جھرہ، محترمہ نسرین فاطمہ صفدر نگر کالونی، محترمہ رعنا بیگم پریرنا اسکول مدرسہ جمال القرآن، جناب عبداللہ سعید صاحب نے ان مراکز کا معائنہ کرتے ہوئے ڈاکٹر سی ایم بشیر الدین اسسٹنٹ پروفیسر نظام کالج، ڈاکٹر محمد ناظم علی سابق پرنسپال گورنمنٹ ڈگری کالج موڑتاڑ، افسر قریشی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اسکالر ( پی ایچ ڈی ) افسر بدر ( پی ایچ ڈی ) عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان امتحانات میں ہر عمر کے افراد نے شرکت کی جن میں بچے اور معمر حضرات بھی شامل تھے اردو کے حق میں خوش آئند عمل ہے۔ اسکول رحمۃ للعالمین بمقام حسینی علم میں تقریباً50بچے اور بچیاں شریک تھیں۔ ان بچے اور بچیوں سے ہمارے رفیقوں نے چند سوالات کئے جس کا ان لوگوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔ کلپٹرک اسکول نواب صاحب کنٹہ سنٹر میں تقریباً 100 طلباء و طالبات امتحان میں شریک تھے۔ اس اسکول کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں کے نتیش، آکاش، سونیا وغیرہ غیر مسلم طلبہ امتحان لکھ رہے تھے۔ سوال کرنے کے بعد ان طلبہ نے جواب دیا کہ ہم لوگ شوق سے اردو پڑھ رہے ہیں اور یہ امتحان لکھ رہے ہیں اور ہم اس کے آگے بھی اردو میں تعلیم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے اسکول کے ٹیچر اور ادارہ سیاست نے یہ موقع دیا ہے ہم ان کے شکر گذار ہیں کہ ہمیں یہ موقع ملا۔ کلپٹرک مشن ہائی اسکول تاڑبن میں 85 طلبہ امتحانات سے مستفید ہوئے۔ یہاں یہ خاص بات مشاہدے میں آئی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی کام آنرس کا میاب تہنیت بیگم نامی خاتون نے اردو زبان سیکھنے کی غرض سے اردو انشاء کا امتحان لکھا۔ نیز کتھری نکیتا نامی ایک غیر مسلم ساتویں جماعت کی طالبہ نے اردو دانی کا امتحان لکھا۔ اس لڑکی نے بتایا کہ اسے اردو زبان سے خصوصی دلچسپی ہے۔

عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کے
اُردو امتحانات کی جھلکیاں
٭ اردو دانی ، زبان دانی، انشاء کے امتحانات میں ایک لاکھ سے زائد امیدواروں نے شرکت کی۔
٭ سال حال امریکہ کے شہر شکاگو میں بھی امتحان کا انعقاد عمل میں آیا۔
٭ تاحال 10 لاکھ 30 ہزار امیدواروں نے شرکت کرچکے ہیں۔
٭ ڈان ہائی اسکول ، ملک پیٹ میں سب سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی۔
٭ اقراء مشن اسکول نواب صاحب کنٹہ میں 800 طلبہ نے امتحان دیا۔
٭ کئی غیرمسلم لڑکے لڑکیوں نے اُردو امتحان میں شرکت کی۔
٭ ایک نابینا لڑکی نے بھی اُردو دانی امتحان لکھا۔