671 ٹیچرس کے تقررات کا اعلان ۔ 500 جائیدادیں بیاک لاگ فہرست میں شامل ۔ امیدوار دستیاب ہونا ممکن نہیں
حیدرآباد۔/14 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت ٹیچرس کے تقررات میں بھی اُردو میڈیم اسکولس کے ساتھ سراسر ناانصافی کررہی ہے۔ اُردو میڈیم کے 671 ٹیچرس کا تقرر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یہ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے کیونکہ ان میں 500 جائیدادوں کو بیاک لاگ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کیا گیا جن پر تقررات کیلئے امیدواروں کا دستیاب ہونا ممکن نہیں ہے۔ اس طرح اُردو میڈیم کی صرف 171 جائیدادوں پر تقررات ہونے کے امکانات ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت نے 5089 ٹیچرس جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کرکے نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں اُردو میڈیم کے 138 اسکول اسسٹنٹس 488 ، ایس جی ٹی 32، پی ای ٹی اور 53 ایل پی جملہ 671 جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 2017 میں ٹی آر ٹی کے تحت ٹیچرس کے تقررات کئے گئے ان میں اُردو میڈیم اسکولس کی 500 جائیدادوں پر تقررات نہیں ہوئے۔ اس مرتبہ اُن 500 جائیدادوں کو بیاک لاگ جائیدادوں میں شامل کردیا گیا ہے جس کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ تازہ طور پر ٹیچرس کے جو تقررات کئے جارہے ہیں اس میں بھی ان 500 جائیدادوں پر تقررات کے امکانات نہیں ہیں۔ جب تک ان بیاک لاگ جائیدادوں کو ڈی ریزور کرکے جنرل جائیدادوں میں تبدیل نہیں کیا جاتا ان پر تقررات ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حکومت نے ریاست میں اُردو کو دوسری زبان کا درجہ دیا ہے مگر اُردو زبان کی ترقی اور فروغ کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کو ہتھیلی میں جنت دکھانے کیلئے یہ اعلان کیا گیا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش کی حکومتوں نے اُردو میڈیم کیلئے مختص پسماندہ طبقات کی جائیدادوں کو امیدواروں کی عدم دستیابی پر انہیں جنرل جائیدادوں میں تبدیل کرنے کے بعد تقررات کے عمل کو مکمل کیا ہے۔ جب یہ گنجائش موجود ہے تو تلنگانہ حکومت اس سے استفادہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس طرح علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے اب تک اُردو میڈیم اسکولس کے کئی ٹیچرس ریٹائرڈ ہوئے یا ان کی موت واقع ہوجانے سے کئی منظورہ جائیدادیں خالی ہیں مگر صرف تازہ تقررات میں اُردو کی 671 جائیدادوں پر تقررات کئے جارہے ہیں۔ ٹیچرس تنظیم حیدرآباد ایس ٹی یو ضلع کے صدر محمد افتخار الدین نے کہا کہ اُردو میڈیم کی جن 500 جائیدادوں کو بیاک لاگ جائیدادوں میں شامل کیا گیا ان پر تقررات ہونے کے قطعی کوئی امکانات نہیں ہیں۔ اگر انہیں ڈی ریزور کرتے ہوئے جنرل جائیدادوں میں تبدیل کیا جاتا ہے تو اُردو والوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام جہاں بیروزگاروں کے لئے روزگار فراہم کرنے اور طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے اُستاد فراہم کرنے کے مترادف ہوگا بصورت دیگر ان 500 جائیدادوں پر 2017 کی طرح تقررات نہیں ہوں گے اور یہ جائیدادیں دوبارہ مخلوعہ رہ جائیں گی، حکومت اس جانب خصوصی توجہ دے اور اُردو اسکولس سے انصاف کرے۔ن