اُردو کو سیکھنے غیربھی راغب ، اپنوں کا دور ہونا افسوسناک

   

اخبارات و رسائل خریدکر پڑھنے ـکی خواہش ، سنگاریڈی میں عرس عرفانی کل ہند مشاعرہ کاکامیاب انعقاد ، مقررین کا خطاب

سنگاریڈی ۔15 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ادبی محافل و مشاعرے نہ صرف ذہنی آسودگی فراہم کرتے ہیں بلکہ زبان وادب کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں مشاعروں کی سماعت کے بعد غیر اُردو داں بھی اس زبان کی لذت و مٹھاس سے متاثر ہوکر اسے سیکھنے کے طرف راغب ہورہے ہیں لیکن ہم اہل اُردو کا رویہ اپنی زبان کے ساتھ معاندانہ ہے اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی مادری زبان اُردو کی ترقی و ترویج میں اپنا حصہ ادا کریں اور اُردو کو زندہ رکھنے کے لئے ہمیں اپنے گھروں میں اُردو کا ماحول بنانے اور اولاد کو اُردو پڑھنا لکھنا سکھانے کی ضرورت ہے۔ اُردو کی ترقی اور ترویج کیلئے اُردو اخبارات و رسائل کو خرید کر پڑھا کریں یہ مشترکہ خیالات ان مقررین کے تھے جو کل شب عرس عرفانی کے موقع پر احاطہ بارگاہ عرفانیؒ چاوش باغ سنگاریڈی میں منعقدہ کل ہند عرفانی مشاعرہ سے مخاطب تھے۔ مشاعرے کی صدارت پیر طریقت حضرت حکیم عمر بن احمدالمعروف حبیب فیض علی شاہ عرفانی بندہ نوازی چشتی سجادہ نشین بارگاہ عرفانی نے کی۔ الحاج محمد عبدالقادر فیصل سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ بزرگان دین کے آستانہ جہاں روحانی فیوض و برکات سے عوام الناس کو مستفید کررہے ہیں وہیں معیاری مشاعروں کا انعقاد عمل میں لاکر فروغ اُردو میں بھی اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔گزشتہ دس سال سے عرس عرفانیؒ کے موقع پر کل ہند مشاعرہ کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے جس میں ملک کے ممتاز و معروف شعراء کرام حصہ لے چکے ہیں۔عرفانی کل ہند مشاعرہ و عرفانی ایوارڈ تقریب میں چنتا پربھاکر صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ ہنڈلوم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کارپوریشن ، ایم اے ماجد صدر تلنگانہ اُردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن ، سید غوث محی الدین جنرل سکریٹری تلنگانہ اُردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن ، حبیب علی الجیلانی شریک معتمد تلنگانہ اُردو ورکنگ جرنلٹس فیڈریشن، پی مانکیم نائب صدر ڈی سی سی بی، پی ایم راجو کونسلر سداسیو پیٹ، لیاقت علی ،شیخ ابو بکر، الحاج محمد خواجہ، شاہ محمد معراج خان ہاشمی اسرار شاہ، افضل حسین صدیقی، محمد یعقوب علی رکن بلدیہ ، بہوجن ائنڈ مائناریٹیز کمیونیٹیز ایمپلائز فیڈریشن کے قائدین اور دیگر نے شرکت کی۔ مشاعرہ کا آغاز حافظ ابو سعید کی قرات کلام پاک سے اور محمد عبدالمنان شوکت کی نعت شریف سے ہوا۔ مشاعرہ کی ابتداء نعتیہ دور سے ہوئی اور بعد کے دور سنجیدہ تھے جس میں ملک کے نامور شعراء کے علاوہ مزاحیہ شاعر نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ ناظم مشاعرہ ارشاد انجم نے ظہیرآباد کے جواں سال شاعر سعداللہ خان سبیل کو زحمت کلام دی اس کے بعد فیاض علی سکندر ,نظام آباد کے شاعر ڈاکٹر رضی شطاری، شکیل ظہیرآبادی ، شیخ احمد ضیاء بودھن، بیدر کے شاعر یوسف رحیم میر بیدری، صابربسمت نگری، احمد ایاز جھانسی، حامد بھوساولی، ضیاء ٹونکی راجستھان کے علاوہ جوہر کانپوری نے اپنا کلام پیش کرکے مشاعرہ کو بام عروج پر پہنچادیا۔ سرد ترین رات کے باجود سنگاریڈی کے باذوق سامعین نے رات دیر گئے 3 بجے تک مشاعرہ سماعت کیا۔ مشاعرے کے ابتداء میں ہر سال کی طرح امسال بھی شعرا اور ادباء کے علاوہ زندگی مختلف شعبہ ہائے حیات میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی شخصیات کو عرفانی ایوارڈ پیش کرتے ہوے ان کی حوصلہ افزاء کی گئی۔عرفانی ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں محمد فاروق حسین اُردو صحافی میدک، حافظ محمد عبدالقیوم اُردو صحافی میدک، یونانی طب میں نمایاں خدمات انجام دینے پر ڈاکٹر سید مجتبیٰ علی ہاشمی، شعر و ادب میں کارہائے نمایاں انجام دینے پر نظام آباد کے شاعر ڈاکٹر رضی شطاری، بیدر کرناٹک کے شاعر و ادیب یوسف رحیم میر بیدری شامل ہیں۔ جناب الحاج محمد حاجی علی جرنلسٹ سداسیو پیٹ کو نائب صدر تلنگانہ اسٹیٹ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس ضلع سنگاریڈی منتخب ہونے پر تہنیت پیش کی گئی۔ کنونیر مشاعرہ عبدالرزاق قریشی, معاون کنونیر شبیر ہاشمی اور عرس عرفانی کمیٹی نے انتظامات کی نگرانی کی۔