(بنگال کے موجودہ سیاسی حالات کے پس منظر میں)
سید حمایت علی ناصفؔ
بہار کے نتائج آئے بمشکل ایک مہینہ ہی گزرا تھا کہ مغربی بنگال کے الیکشن کی ابھی سے گہما گہمی شروع ہوگئی۔ اپوزیشن پارٹیوں کی آنکھوں میں آنسو ابھی خشک بھی نہ ہوپائے تھے کہ اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے بنگال کے آنے والے چناؤ کے بارے میں سوچنے لگے۔ عام طور پر یہ سمجھا جارہا تھا کہ اگر کانگریس کا اپنی حلیف پارٹی ٹی ایم سی سے کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکے تو وہ جیتنے کے قابل سیٹوں پر اپنے امیدوار اُتارے گی۔ یہاں تکونے مقابلے کی اُمید ہے یعنی ٹی ایم سی، کانگریس اور بی جے پی اور یہ بھی اُمید ہے کہ کوئی روایتی ووٹ کٹوا پارٹی بھی میدان میں آسکتی ہے۔ یہ بھی عام خیال ہے کہ ٹی ایم سی پارٹی کانگریس اور دیگر پارٹیوں سے اتحاد کرے یا نہ کرے اس کا اصل مقابلہ بی جے پی سے ہوگا اور اپنی جیت کے لئے ٹی ایم سی نے مستحکم منصوبہ بندی کرلی تھی۔ دوسری جانب بی جے پی بہار کی عالیشان جیت کے بعد کافی پرجوش نظر آرہی تھی اور ہر حال میں بنگال فتح کرنے کا منصوبہ بنالیا تھا۔ دونوں پارٹیاں اپنی اپنی کامیابی کے لئے پُرعزم نظر آرہے تھے کہ اچانک ممتا بنرجی کی پارٹی سے ایک لیڈر نے بغاوت کردی جسے ہمایوں کبیر کہتے ہیں جو بھرت پور سے ٹی ایم سی کا ایم ایل اے تھا جس نے یہ اعلان کردیا کہ ضلع مرشد آباد کے بیلڈانگا میں وہ 6 ڈسمبر 2025ء کو نئی بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھے گا۔ اپنے ایک مسلم ایم ایل اے کی سرکشی پر ممتا بنرجی کافی حیرت زدہ اور غمگین ہوگئی تھیں کیوں کہ وہ سرکش اپنے فیصلہ پر اٹل تھا اس لئے ممتا بنرجی نے اس کو اپنی پارٹی سے معطل کردیا تاکہ بی جے پی اس کو انتخابی حربہ نہ بنائے۔ ہمایوں کبیر کے اس طفلانہ اور بچکانہ فیصلہ نے بنگال کی سیاست میں ہلچل مچادی۔ اُس نے مزید اعلان کیاکہ وہ 6 ڈسمبر 2025ء کے دن ایک نئی پارٹی کا اعلان کرے گا اور مجوزہ چناؤ میں تقریباً 135 امیدواروں کو میدان میں اُتارے گا۔ اُس نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ ممتا بنرجی کو سابقہ چیف منسٹر بناکر دم لے گا۔ اس نے یہ بھی اعلان کیاکہ وہ اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اویسی سے ربط میں ہے اور دونوں مل کر چناؤ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیں گے۔ پروگرام کے مطابق ہمایوں کبیر نے مقامی علماء اور لاکھوں عوام کی موجودگی میں نئی بابری مسجد کا 6 ڈسمبر 2025ء کو سنگ بنیاد رکھ دیا جس کی تعمیر تقریباً 3 سال میں مکمل ہوگی۔ اس تقریب میں عوام کا جوش و خروش اتنا تھا کہ مسجد کی تعمیر کے لئے کروڑوں روپئے کا چندہ بھی جمع ہوا۔ ہمایوں کبیر نے بنگال میں مزید دو مساجد کی تعمیر کا اعلان بھی کردیا۔
نئی بابری مسجد کے سنگ بنیاد کے اعلان کے بعد بعض لوگ اس تقریب کو روکنے کے لئے بنگال ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے لیکن ہائی کورٹ نے مداخلت سے انکار کردیا البتہ ریاستی حکومت کو یہ ہدایات جاری کیں کہ حکومت لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ کو کنٹرول میں رکھے۔ ہائی کورٹ کے ان احکامات پر ہمایوں کبیر کو بڑی راحت ملی۔ درحقیقت مسئلہ یہ نہیں تھا کہ نئی بابری مسجد کا سنگ بنیاد مرشدآباد (بیلڈانگا) میں کیوں رکھا گیا بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ نئی بابری مسجد کا سنگ بنیاد 6 ڈسمبر کو ہی کیوں رکھا گیا؟ اُس کو کوئی دوسری تاریخ یا مہینہ نہیں ملا۔ یہ تاریخ اس کی پیدائش کا دن تھا یا اُس کی شادی کا دن تھا۔ دراصل معطل ایم ایل اے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مسلمانوں میں ہیرو بننا چاہتا تھا اور ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے بالواسطہ بی جے پی کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ وہ ایک تیر سے دو نشان مارنا چاہتا تھا۔ ایک مسلمانوں میں شہرت اور بی جے پی سے محبت اس کا مقصد تھا۔
6 ڈسمبر 2025ء کو ہمایوں کبیر نے جو سنگ بنیاد رکھا تھا اُس کو فی الوقت کچھ شہرت تو مل گئی تھی لیکن اس سے زیادہ 33 سال قبل بابری مسجد کی شہادت سے جو زخم ملے تھے وہ ہرے ہوگئے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے تئیں ہندوؤں میں نفرت اور تعصب کے جذبات بھڑک اُٹھے اور دوسرے دن یعنی 7 ڈسمبر 2025ء کو بابا باگیشور دھام شاستری نے تقریباً 6 لاکھ معتقدین کو جمع کرکے بنگال میں نئی بابری مسجد کے سنگ بنیاد کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ اب شہرت کے بھوکے ہمایوں کبیر کو سوچنا چاہئے کہ نئی بابری مسجد کے سنگ بنیاد سے اُس کو اور مسلمانوں کو ثواب ملا یا عذاب۔ ابھی حال میں مہاراشٹرا کی ہندو لیڈر نے انتباہ دیا کہ اس کے بعد اگر دوسری اینٹ رکھی گئی تو وہ بنگال جاکر اس اینٹ کو پھینک دے گی۔ موجودہ سیاسی و نفرتی حالات سے بی جے پی کافی خوش اور سکون میں ہے اور بنگال میں چناؤ کی جیت بہار کی جیت سے بھی آسان ہوگئی۔ معلوم ہوا ہے کہ ہمایوں کبیر بی جے پی کا پرانا وفادار کارکن ہے جسے 2019ء میں بی جے پی کا ٹکٹ دیا گیا تھا لیکن ہار سے دوچار ہوگیا اور اب بالواسطہ بی جے پی کی مدد کررہا ہے تاکہ وہ ممتا بنرجی سے انتقام لے سکے۔ اب بنگال کے آنے والے چناؤ میں مسئلہ مہنگائی کا نہیں ہوگا، روزگار کا نہیں ہوگا، ریاست کی ترقی کا نہیں ہوگا بلکہ ہندو مسلم میں تعصب اور منافرت، نئی بابری مسجد کا سنگ بنیاد، مسلمانوں کو بنگلہ دیشی گھس بیٹھی کہنا، انھیں ووٹ کے حق سے محروم کرنا وغیرہ۔ ان تمام حالات کا اگر کوئی ذمہ دار ہوگا تو وہ ہمایوں کبیر ہوگا جس نے سارے انتخابی ماحول کو زہریلا بنادیا ہے۔ اب یہ نام نہاد لیڈر اپنے ہمخیال لیڈروں کو جمع کرے گا اور ماحول کو مزید بگاڑنے کی کوشش کرے گا۔ اگر مسلمان عقلمندی سے کام لیتے تو سیکولر ووٹ نہ بکھرتا اور مہا گٹھ بندھن کی حکومت ہوتی نہ بلڈوزر آتا، نہ ماب لنچنگ میں اطہر حسین کی جان جاتی۔ اس لئے عوام اور مسلمان ہمایوں کبیر کی چکنی چوپڑی باتوں میں نہ آئیں، کسی سازش کا شکار نہ بنیں۔ اگر آپ جذبات میں بہہ گئے، غلط فیصلہ لے لیا تو سمجھو بہت بڑے سیاسی خسارے میں رہ گئے۔ دیکھو! چاروں طرف نظریں دوڑاؤ، یوپی میں کیا ہورہا ہے، مہاراشٹرا میں کیا ہورہا ہے، بہار میں بلڈوزر کیسے چل رہا ہے؟ کیا آپ رابندر ناتھ ٹیگور کی سرزمین بنگال میں یہ سب دیکھنا چاہتے ہو؟ خبردار، خبردار، ہوشیار، ہوشیار، اپنوں کے بھیس میں غیروں کو پہچانو، ورنہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاؤ گے :
اُس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
