پی وی نرسمہا راؤ ایکسپریس وے کے بعد دوسرا بڑا فلائی اوور، ریاستی وزیر نے 6 لائن پر مبنی راہداری کے کاموں کا جائزہ لیا
حیدرآباد۔ 16 جولائی (سیاست نیوز) وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے اُپل رنگ روڈ تا نارا پلی 6 لائن پر مبنی الیویٹیڈ کوریڈور کے تعمیری کاموں کا جائزہ لیا۔ نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی آف انڈیا اور محکمہ عمارات و شوارع کی جانب سے مشترکہ طور پر راہداری کا کام جاری ہے۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ دسہرہ فیسٹیول 2026 تک اُپل فلائی اوور عوام کے لئے کھول دیا جائے گا۔ ریاستی وزیر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ تعمیری کاموں کی تکمیل کو اولین ترجیح دیں اور مقررہ مدت میں پراجکٹ مکمل کیا جائے۔ 6 لائن پر مبنی فلائی اوور 6 کیلو میٹر سے زائد کے فاصلے پر محیط ہوگا جس کی تعمیر کا کام 8 سال قبل شروع ہوا ہے۔ پی وی نرسمہا راؤ ایکسپریس وے جو 11.6 کیلو میٹر پر محیط ہے اس کے بعد یہ دوسرا بڑا فلائی اوور رہے گا۔ پی وی نرسمہا راؤ ایکسپریس وے کو مانصاحب ٹینک سے شمس آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ مربوط کیا گیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ الیکٹرک پولس کو ہٹانے اور واٹر پائپ لائنس کی منتقلی کے بعد اراضی کے حصول کا کام شروع ہوگا۔ محکمہ پولیس سے اجازت کے حصول میں تاخیر کی عہدیداروں نے شکایت کی۔ دسہرہ 2026 تک تعمیری کاموں کی تکمیل کے لئے عہدیداروں نے پلرس کے درمیان دونوں جانب تعمیری کاموں کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ اُپل کے قریب 5 نئے پلرس تعمیر کئے جائیں گے۔ جملہ 143 پلرس میں 38 کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے جبکہ 104 پلرس کے تعمیری کاموں کا آغاز باقی ہے۔ عہدیداروں کے مطابق آئندہ سال کے وسط میں تعمیری کام مکمل کرلئے جائیں گے۔ وزیر عمارات و شوارع نے کہا کہ پراجکٹ کی تکمیل کے لئے فنڈس کی کوئی قلت نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کے فنڈس سے پراجکٹ مکمل کیا جارہا ہے۔ میڈی پلی کے علاقہ میں تعمیری کاموں کے لئے پولیس کی اجازت ابھی باقی ہے۔ ریاستی وزیر نے کنٹراکٹر کو ہدایت دی کہ سڑک کے مرمتی کاموں کی تکمیل کے علاوہ پلرس کے کاموں کا آغاز کریں۔ فلائی اوور کی تعمیر کے لئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ اُپل رنگ روڈ تا نارا پلی سفر کرنے والے افراد کے لئے یہ فلائی اوور بڑی راحت ثابت ہوگا۔ اُپل رنگ روڈ سے فلائی اوور پر 100 فی گھنٹہ کی رفتار سے مسافت طے کی جاسکتی ہے۔ فلائی اوور کے آغاز کے بعد عوام کو تقریباً 25 منٹ کی بچت ہوگی۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ پراجکٹ کی تکمیل میں تمام ضروری معیارات کو برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض وجوہات کے سبب راہداری کے کاموں میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عمارات و شوارع کے پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل کے حق میں ہے۔ 1