اِنتقامی سیاست کو عوام دیکھ رہے ہیں ، کانگریس کو منہ توڑ جواب یقینی

   

کے سی آر کو نقصان پہنچانے والے خود سیاسی قبر میں دفن ہوجائیں گے ، سنگاریڈی میں احتجاج ، چنتا پربھاکر کا خطاب

سنگاریڈی یکم فبروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق چیف منسٹر تلنگانہ و صدر بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو ایس آئی ٹی نوٹس جاری کئے جانے کے خلاف بی آر ایس کی جانب سے سنگاریڈی میں زبردست احتجاجی دھرنا اور ریالی منظم کی گئی۔ بی آر ایس قائدین اور کارکنان نے سنگاریڈی ایم ایل اے کیمپ آفیس سے سیاہ بیاچ لگا کر اور سیاہ پرچم کے ساتھ احتجاجی ریالی نکالی، جو نئے بس اسٹانڈ تک پہنچی، جہاں راستہ روکو منظم کیا گیا اور کانگریس حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔ ریونت ریڈی ڈاؤن ڈاؤن کے بھی نعرے لگائے۔احتجاج کے دوران حکومت کا پتلا نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے اس کو ناکام بنا دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چنتا پربھاکر رکن اسمبلی سنگاریڈی نے کہا کہ کے سی آر صرف ایک لیڈر نہیں بلکہ تلنگانہ کی عزت نفس اور شناخت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کے سی آر پر الزام عاید کرنا دراصل تلنگانہ کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔انھوں نے کہا کہ کے سی آر نے طویل جدوجہد کے بعد علیحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کیا اور اپنی قیادت میں ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک مثالی ریاست بنایا۔ چنتا پربھاکر نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی سیاسی انتقام کے تحت کے سی آر کے خلاف ایس آئی ٹی نوٹس جاری کروا رہے ہیں۔ ریونت ریڈی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے انتقامی سیاست کر رہے ہیں عوام سب دیکھ رہی ہے اور اس کا جواب انتخابات میں دیں گے۔ کے سی آر کو 60 لاکھ پارٹی کارکنان اور چار کروڑ عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ سیاسی طور پر کے سی آر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے خود ’’سیاسی قبر‘‘ میں دفن ہو جائیں گے۔ ریونت ریڈی حکومت کی ناعاقبت اندیش، آمرانہ اور انتقامی سیاست کو عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں اور آنے والے انتخابات میں کانگریس پارٹی کو منہ توڑ جواب دینا طے ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کوئی غیر جانبدار قانونی کارروائی نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی انتقام کا حصہ ہے۔ اقتدار ہمیشہ قائم نہیں رہتا اور غرور اس سے بھی کم مدت کا ہوتا ہے تاریخ میں کئی آمر وقت کے اندھیروں میں گم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سنگرینی کول مائن، سولار ٹینڈر اور دیگر مبینہ بدعنوانیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایس آئی ٹی نوٹس کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ چھ گارنٹیوں پر عمل درآمد میں ناکامی، عوامی مسائل حل نہ کر پانے اور مہنگائی و بے روزگاری پر قابو نہ پا سکنے کے سبب حکومت توجہ ہٹانے کی سیاست کر رہی ہے۔ احتجاج میں سابق سی ڈی سی چیئرمین کاسالا بْچّی ریڈی،ایم راجندر، ڈاکٹر سری ہری، ٹاؤن صدر آر وینکٹیشورلو، شیخ رشید، ملّا گوڑ، منڈل پارٹی صدر چکراپانی سمیت بی آر ایس کے کئی سینئر قائدین اور کارکنان نے شرکت کی۔