تین ماہ کے بقایاجات جلد جاری کرنے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی ہدایت
حیدرآباد۔ 27ستمبر (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ محمد سلیم نے آئمہ اور موذنین کے ماہانہ اعزازیہ کے سلسلہ میں 4 کروڑ 92 لاکھ 80 ہزار روپئے جاری کیے۔ 9856 آئیمہ و موذنین کو فی کس 5 ہزار روپئے کے حساب سے ماہ جون کا اعزازیہ جاری کیا گیا۔ 33 اضلاع کے درخواست گزاروں پر مبنی اس اسکیم کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے گزشتہ دنوں اسمبلی میں بقایاجات کی اجرائی کا یقین دلایا تھا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور بقایاجات کی جلد اجرائی کی ہدایت دی۔ پہلے مرحلہ میں ماہ جون کا اعزازیہ جاری کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد جولائی تا ستمبر تین ماہ کے بقایا جات یکمشت جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم پر عمل آوری کے لیے وقف بورڈ کے پاس بجٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ابتداء میں 6 ہزار درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور یہ تعداد بڑھ کر 10 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی نئی درخواستیں جنہیں تاحال منظوری نہیں دی گئی متعلقہ وقف انسپکٹرس کو جلد ویریفکیشن کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے مکمل دستاویزات داخل نہ کرنے کے سبب منظوری میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ آئیمہ و موذنین کو مساجد کمیٹیوں سے صداقت نامہ اور رہائشی ثبوت کے علاوہ بینک پاس بک کی نقل پیش کرنی ہوگی کیوں کہ اسکیم کے تحت اعزازیہ راست طور پر اکائونٹ میں منتقل کی جائے گی۔ ماہ جون کے اعزازیہ کے تحت حیدرآباد میں 1551 درخواست گزاروں میں 77 لاکھ 55 ہزار روپئے جاری کیے گئے۔ ضلع سنگاریڈی 839 درخواستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جہاں 41 لاکھ 95 ہزار روپئے اور ضلع نظام آباد 800 درخواستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جہاں 40 لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی۔ گدوال ضلع کے لیے 13 لاکھ 25 ہزار، جگتیال 15 لاکھ 70 ہزار، کھمم 15 لاکھ 5 ہزار، کریم نگر 15 لاکھ 70 ہزار، کاما ریڈی 15 لاکھ 90 ہزار، محبوب نگر 22 لاکھ 95 ہزار، میدک 14لاکھ 75 ہزار، ناگرکرنول 11 لاکھ 55 ہزار، نلگنڈہ 25 لاکھ 50ہزار، نرمل 10 لاکھ 95 ہزار، رنگاریڈی 24 لاکھ 20 ہزار، سدی پیٹ 16 لاکھ 10 ہزار، سوریا پیٹ 14 لاکھ 45 ہزار، ورنگل اربن 12 لاکھ 15 ہزار شامل ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت درخواستوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جتنی درخواستیں وصول ہوں گی انہیں جانچ کے بعد منظوری دی جائے گی۔