آئندہ سال کے وسط تک کورونا ویکسین کی تیاری نہیں: ڈبلیو ایچ او

   

Ferty9 Clinic

ایسٹرا جینیکا ویکسین آزمائش کے تیسرے مرحلے میں‘جاریہ ماہ بازار میں آنے کی توقع

جینیوا:عالمی صحت تنظیم نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کی تیاری میں ابھی اور وقت لگے گا۔ ویکسین اگلے سال کے وسط تک نہیں بنے گی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے اب کورونا ویکسین کو لے کر پھر سے نیا بیان جاری کیا ہے۔ دراصل، ان کا ماننا ہے کہ کورونا ویکسین آئندہ سال کے وسط تک نہیں بنے گی۔ ڈبلیو ایچ او کے ترجمان مارگرٹ ہیرس نے کہا کہ اب تک جدید تشخیصی ٹیسٹ میں سے جتنی بھی کمپنیاں ویکسین بنا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی ابھی تک کم از کم 50 فیصد کی سطح پر کھری نہیں اتری ہے۔وہیں دوسری طرف، امریکی تنظیم سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پروینشن (سی ڈی سی) نے عوامی صحت سے متعلق ایجنسیوں کو بتایا ہے کہ وہ اکتوبر یا نومبر تک دو ویکسین تیارکرسکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے سی ڈی سی کے ذریعہ عوامی صحت سے متعلق اداروں کو بھیجے گئے دستاویزوں میں ویکسین کو اے اور بی نام دیا ہے۔ اس میں ویکسین سے جڑی ضروری اہم جانکاریاں شامل ہیں۔ جیسے ویکسین کی تلاش کے درمیان کے وقت کس درجہ حرارت پر انہیں رکھنا ہے۔ یہ معیار ماڈرنا اور فائزر کمپنی کے ذریعہ تیار ویکیسن کے معیار سے ملتے جلتے ہیں۔ ادھر امریکہ میں ایسٹراجینیکا کے ذریعہ تیار کی جارہی کورونا ویکسین کا ٹرائل تیسرے مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق، امریکہ میں کل 80 مقامات پر 30 اس کی ٹریننگ چل رہی ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ ایسٹرا جینیکا ویکسین ٹریننگ کے تیسرے مرحلے میں پہنچ گئی ہے اور وہ ان ویکسین کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے، جس کا استعمال بہت جلد کورونا سے لڑنے میں کیا جائے گا۔ اسی ماہ اس کے بازار میںآنے کی امید ظاہر کی جارہی ہے۔