آئندہ چند ہفتوں میں تلنگانہ میں اومی کرون وائرس میں اضافہ

   

ملک گیر سطح پر یومیہ ایک لاکھ 80 ہزار تا دو لاکھ افراد کو مرض لاحق ہونے کا امکان

حیدرآباد۔26ڈسمبر(سیاست نیوز) ہندستان میں ماہ مارچ کے اوائل میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے مریضوں کی تعداد میں یومیہ ایک لاکھ 80ہزارتا 2لاکھ کا اضافہ ہوگا اور ماہ فروری سے ہی ہندستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر شدت اختیار کرجائے گی۔ ریاست تلنگانہ میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران اومی کرون کے مریضوں کی تعداد میں اچانک تیزرفتار اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا اور تیزی کے ساتھ مریضوں کی تعداد میں کمی بھی رونما ہونے لگ جائے گی ۔ تلنگانہ میں بیشتر مریضوں کو کورونا وائرس کی نئی قسم کے سبب شریک دواخانہ کرنے کی نوبت نہیں آئے گی اور اومی کرون کے متاثرین کی اموات کی شرح بھی کافی کم رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے بعد آئی آئی ٹی حیدرآباد اور آئی آئی ٹی کانپور کے ماہرین SUTRA ماڈل کی تیاری کے ذریعہ کورونا وائرس کے متعلق پیش قیاسیوں اور امکانات کے متعلق آگاہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لینا شروع کیا تھا اور دوسری لہر کے دوران اس ماڈل کے ذریعہ کی جانے والی پیش قیاسیاں ‘ اعداد و شمار بڑی حد تک درست بھی ثابت ہوئے تھے۔ماہرین کے مطابق ہندستان میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کا اثر 4 ماہ تک برقرار رہے گا۔ جنوری اور فروری کے دوران مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا لیکن ماہ مارچ کے اوائل میں اومی کرون کے متاثرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگا اور اس وقت ہی کورونا وائرس کی تیسری لہر شدت اختیار کرے گی۔ SUTRA ماڈل پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماہ اپریل کے اواخر میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے مریضوں میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگے گی اور تیسری لہر دوسری لہر سے زیادہ تیز رفتار سے ختم ہوجائے گی۔م