آئندہ 10 برسوں تک کے سی آر تلنگانہ کے چیف منسٹر: کے ٹی آر

,

   

غیر مجاز تعمیرات نوٹس کے بغیر منہدم کرنے کی گنجائش، تلنگانہ میں اصل مقابلہ کانگریس سے، بی جے پی کیلئے کوئی جگہ نہیں
حیدرآباد۔ یکم جنوری (سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق اور ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسڈنٹ کے ٹی راما رائو نے چیف منسٹر کے عہدے کے سلسلہ میں جاری قیاس آرائیوں کو یہ کہتے ہوئے مستردکردیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ وہ 10 برسوں تک عہدے پر برقرار رہیں گے۔ چیف منسٹر کے اس اعلان کے بعد میرے نام کے ساتھ قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ میڈیا کے بعض گوشوں میں اندرون ایک سال کے ٹی آر کے چیف منسٹر کے عہدے پر فائز ہونے کی قیاس آرائیوں کے درمیان یہ بیان اہمیت کا حامل ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ میونسپل قانون پر موثر عمل آوری میرا اہم چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر مجاز تعمیرات کو کوئی نوٹس دیئے بغیر منہدم کرسکتی ہے۔ نیا میونسپل قانون عوام کے لیے بھی کافی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کے لیے بلا لحاظ سیاسی وابستگی میونسپل ایکٹ کے بارے میں ٹریننگ کلاسس کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعہ ترقیاتی اقدامات میں تیزی پیدا کی جاسکتی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر کا احساس ہے کہ ایک طرف دیہی علاقوں کی تو دوسری طرف شہری علاقوں کی ترقی یکساں طور پر ہونی چاہئے تاکہ ریاست کی مجموعی ترقی کے لیے مثبت نتائج برآمد ہوں۔ ملک میں تلنگانہ کئی معاملات میں دیگر ریاستوں سے سرفہرست ہے۔ خواندگی کے معاملے میں تلنگانہ دیگر ریاستوں سے پسماندہ ہے لہٰذا چیف منسٹر نے اس شعبے پر خصوصی دلچسپی مرکوز کی ہے۔ کے ٹی آر نے دعوی کیا کہ مجوزہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں صورتحال ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی۔ لوک سبھا انتخابات میں نتائج ٹی آر ایس کی توقع کی مطابق نہیں رہے لیکن اس کے بعد مجالس مقامی کے انتخابات میں ہم نے کامیابی حاصل کی۔ آر ٹی سی ملازمین کے لیے حکومت کے اعلانات کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کے سی آر نے کی جئے جئے کار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب مواقع کے بہتر استعمال کے سلسلہ میں کے سی آر سے بہتر کوئی اور شخصیت نہیں ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کی صورت میں قیادت کا فقدان پیدا ہونے کا دعوی کرنے والے آج ملک بھر میں کے سی آر کی طرح قیادت کی خواہش کررہے ہیں۔

کے ٹی آر نے کہا کہ نظم و نسق میں عوام کی حصہ داری یقینی بنانے کے لیے حکومت اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگو ریاستوں میں پانی کے مسئلہ کی یکسوئی کے لیے بہتر تعلقات استوار کئے گئے۔ جگن ہی نہیں چندرا بابو نائیڈو کے دورِ حکومت میں بھی تلنگانہ حکومت نے آندھراپردیش سے تعلقات کو استوار رکھا۔ یاگم کے انعقاد کے موقع پر چندرا بابو نائیڈو کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ دارالحکومت کے سنگ بنیاد کے موقع پر انہوں نے ہمیں مدعو کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گوداوری کا پانی کرشنا تاس منتقل کرنے کے مسئلہ پر آندھراپردیش اور تلنگانہ کی رائے یکساں ہے تاہم اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پردیش کانگریس کے صدر کے عہدے پر اتم کمار ریڈی کی برقراری کے بارے میں سوال پر کے ٹی آر نے کہا کہ عہدے پر برقرار رہنا یا نہیں ان کا نجی فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے کبھی بھی کانگریس کو کمزور نہیں سمجھا ہے۔ ہمارا اصل مقابلہ کانگریس پارٹی سے ہے۔ کانگریس ایک طویل تاریخ کی حامل پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میرے بچپن سے وہی انداز برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت اور آج بھی بی جے پی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ انہوں نے اتم کمار ریڈی کی جانب سے کمشنر پولیس انجنی کمار پر تنقید کو نامناسب قراردیا اور کہا کہ ایک آئی پی ایس عہدیدار کے بارے میں اس طرح کے الفاظ کا استعمال ٹھیک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت انفراسٹرکچر کے شعبے میں ایک لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ اعلان انتخابات کے پیش نظر کیا گیا یا واقعی حکومت کا منصوبہ ہے۔ اس کا اظہار آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ریاستیں خوش رہیں تو ملک کی بہتری ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلور۔حیدرآباد کے درمیان ڈیفنس راہداری کے قیام کی خواہش کی گئی تھی لیکن مرکز نے بندیل کھنڈ میں راہداری تعمیر کی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جاریہ سال فارماسٹی کا آغاز ہوگا۔ پرسوں ممبئی میں منعقد ہونے والے فارما اجلاس میں شرکت کروں گا۔