آئی ایل ایف ای سانحہ : 21 ہزار کروڑ روپئے بچاؤ

   

۔25 لاکھ کروڑ روپئے برباد کرو
ممبئی 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ستمبر کے مہینے میں مینہٹن کے جڑواں ورلڈ ٹریڈ سنٹر ٹاورس سے دو تجارتی طیارے ٹکرائے تھے جس کی وجہ سے این وائی ایس ای ؍ نسدق ایک ہفتہ بند رہے۔ الٹیکو سرمایہ کاری کوئی اِس سے کم سانحہ نہیں ہے۔ ہندوستان کے معاشی بازاروں کو اِسی طرح کی ایک شکست خوردہ ذہنیت میں گرفت میں لے لیا۔ کیوں کہ آئی ایل ایف ایس کو ایک بسکٹ یا جوتا ساز کمپنی سمجھا جارہا تھا۔ جس کے کارکن یہودی تھے جو کمپنی کے بند ہونے سے بیکار ہوگئے اور بعض اُن کے پسندیدہ گاہک انحطاط کا شکار ہوگئے یا پھر گہرائی میں گر پڑے۔ آئی ایل اینڈ ایف ایس کی موت کے سانحہ کا اثر تیزی سے پھیل گیا۔ حکومت اِس انحطاط کو روک سکتی تھی یا آئی ایل ایف ایس کے ناکام ہوجانے کی رفتار سست کرسکتی تھی۔ حکومت نے اِس سانحہ سے تاحال کوئی سبق نہیں سیکھا۔ منظم انداز میں اہم فینانس کمپنیاں اگر بچایا نہ جائے تو اُن کا حشر بھی اسی قسم کا ہوگا۔ بحیثیت مجموعی تمام فلاحی کارروائیاں بڑھ جائیں گی اگر تجارتی کمپنیوں کو بچالیا گیا۔ کیوں کہ عام طور پر پورے شعبہ میں انحطاط کا دوررس اثر ہوتا ہے۔ اگر قبل ازوقت اسے روکنے کے اقدامات نہ کئے جائیں۔ فینانشیل کمپنیوں کے مالکین اخلاقی تباہی کی سمت پیشرفت کرنے لگتے ہیں۔ اگر اُنھیں بچایا نہ جائے اور اُس کے بجائے سزا دی جائے۔ اگر بے کار پڑے ہوئے اثاثہ جات کو بچالیا جائے تو بانی یا منتظمین صفائی کرنے والوں کا کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔