آبپاشی پراجیکٹس پر چیف منسٹر کو کھلے مباحث کا چیلنج

   

Ferty9 Clinic

کانگریس دور حکومت میں 33 پراجیکٹس کا آغاز، پونالا لکشمیا کا بیان
حیدرآباد۔ 3 اگست (سیاست نیوز) سابق صدر پردیش کانگریس پونالا لکشمیا نے چیف منسٹر کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ کسی بھی پراجیکٹ پر کھلے مباحث کے لیے تیار ہوجائیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونالا لکشمیا نے کہا کہ آبپاشی پراجیکٹ کے بارے میں چیف منسٹر بلند بانگ دعوے کررہے ہیں۔ حالانکہ پراجیکٹس کی تعمیر میں کئی بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پراجیکٹس کے مسئلہ پر کھلے مباحث کے لیے تیار ہیں۔ کے سی آر جس پراجیکٹ کو کہیں وہ وہاں آئیں گے اور مباحث کے لیے آمادہ ہیں۔ بشرط یہ کہ چیف منسٹر کو یہ چیلنج قبول کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر تغلق کی طرح حکمرانی کررہے ہیں۔ کالیشورم پراجیکٹ کو عوام کی ضرورت سے زیادہ حکومت کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈی گڈا سے انارم بیریج تک ایک ٹی ایم سی پانی حاصل کرنے کے لیے بھاری رقومات خرچ کی جارہی ہیں۔ جبکہ گوداوری میں سیلاب کے پانی کے سبب کسی خرچ کے بغیر روزانہ تین ٹی ایم سی پانی حاصل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو تغلق قرار دینے کے لیے کئی مثالیں موجود ہیں۔ پراجیکٹس کے بارے میں ماہرین لاکھ مشورہ دیں، لیکن کے سی آر اپنی من مانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین چھوٹے بیریجس اور تین لفٹ تعمیر کرتے ہوئے کالیشورم پراجیکٹ کی تکمیل کا دعوی کرنا باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم تلنگانہ عوام کو مزید قرض میں مبتلا کرنے والا پراجیکٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر تقریباً دو دہے تک تلگودیشم میں کام کرتے رہے اس وقت تلنگانہ کے لیے ایک بھی پراجیکٹ حاصل نہیں کیا۔ کانگریس پارٹی نے جلا یگنم کے تحت تلنگانہ میں 33 پراجیکٹس کا آغاز کیا تھا جن کی 80 فیصد تک تکمیل کرلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں تعمیر کئے گئے پراجیکٹس پر وہ کے سی آر کو کھلے مباحث کا چیلنج کرتے ہیں۔ کومرم بھیم پیدا واگو، یلم پلی، چوٹو پلی، ہنمنت ریڈی، علی ساگر، دیوادولا، ایس ایل بی سی، کلواکرتی، بھیما، کوئلہ ساگر جیسے کئی پراجیکٹس ہیں جنہیں کانگریس دور حکومت میں شروع کیا گیا تھا۔