آج جو لوگ بڑی بڑی تقریریں کررہے ہیں اُنھوں نے کسانوں کیلئے کچھ نہیں کیا: مودی

   


یہی لوگ سوامی ناتھن کمیٹی کی رپورٹ کو بھی دبائے بیٹھے ہیں۔ چھ ریاستوں کے کسانوں سے وزیراعظم کا خطاب

نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی نے آج 6 ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کسانوں کے ساتھ بات چیت کی تاکہ کچھ عرصہ قبل متعارف کئے گئے زرعی قوانین پر کسانوں میں پائی جانے والی تشویش کو دور کیا جاسکے جس کے خاتمہ کے لئے تقریباً ایک ماہ سے ہزاروں کسان دہلی کی سرحدوں پر احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ نریندر مودی نے کہاکہ کچھ لوگ یہ غلط باتیں پھیلارہے ہیں کہ اگر کسانوں نے کنٹراکٹ فارمنگ کے لئے حامی بھری تو اُن کی زمینات چھین لی جائیں گی۔ مودی نے کہاکہ اپوزیشن جماعتیں کسانوں کو ورغلارہی ہیں کہ جن تین زرعی قوانین کو مرکزی حکومت نے متعارف کیا ہے اُس سے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اِس موقع پر اُنھوں نے پردھان منتری کسان سمان ندھی اسکیم کے تحت 18000 کروڑ روپئے کی اگلی قسط بھی جاری کی۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کے یوم پیدائش کے موقع پر متعدد مرکزی وزراء، ایم پیز، ایم ایل ایز اور بی جے پی کو ہدایت کی گئی ہے کہ جس وقت وزیراعظم نریندر مودی کسانوں کے ساتھ بات چیت کریں تو اُس وقت وہ تمام حاضر رہیں۔ مودی نے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے جو پانچ باتیں کہیں وہ اس طرح ہیں : ٭ جن لوگوں کو رائے دہندوں نے مسترد کردیا وہ لوگ اب سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ایونٹ مینجمنٹ کررہے ہیں لیکن عوام اُن کی اس سیاست کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ ممتا بنرجی کی حکومت خود اپنے ہی کسانوں تک فائدہ نہیں پہنچنے دے رہی ہے۔ مرکز نے کسانوں کے لئے راست رقم منتقلی کی جو اسکیم شروع کی ہے اُس سے ممتا بنرجی حکومت زائداز 70 لاکھ ریاستی کسانوں کو مستفید ہونے کا موقع نہ دیتے ہوئے اسکیم سے محروم کررہی ہے۔ ٭ رائے دہندوں کے ذریعہ مسترد کئے گئے لوگ APMC (اگریکلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی) کی بات کرتے ہیں لیکن کیرالا میں اِس نوعیت کی کوئی کمیٹی نہیں ہے۔ کیرالا میں قبل ازیں ایک ایسی پارٹی (کانگریس) کی حکومت تھی جس نے ملک پر 70 برسوں تک حکومت کی۔ اتنے طویل عرصہ میں سابقہ حکومت نے اے پی ایم سی کا نفاذ کیوں نہیں کیا؟ ٭ زرعی اصلاحات ناگزیر ہوگئے تھے کیوں کہ ملک میں غریب کسان جن کا تناسب 80% ہے، سابقہ حکومتوں کے دوران غریب سے غریب تر ہوتے جارہے تھے۔ ٭ ہم مواضعات میں کسانوں کی زندگی کو آسان بنارہے ہیں۔ اُنھیں مشکلات کا سامنا کرنے نہیں دیا جائے گا۔ آج جو لوگ بڑی بڑی تقریریں کررہے ہیں، جس وقت وہ اقتدار میں تھے اُنھوں نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہیں کیا۔ ٭ مودی نے کہاکہ ہماری حکومت نے کسانوں کی فصل کو بہتر قیمتیں دینے کی کوشش کی۔ ہم نے سوامی ناتھن کمیٹی رپورٹ کا نفاذ کیا جبکہ ایم ایس پی (اقل ترین امدادی قیمت) کی شرح میں بھی اضافہ کیا۔ آج جو لوگ کسانوں کی حمایتی بن کر احتجاج کررہے ہیں وہ لوگ خود سوامی ناتھن کمیٹی رپورٹ کو دبائے بیٹھے ہیں۔