دو پہر تک مستقل ایم ڈی کے تقرر کا بھی امکان ۔عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے پیش نظر کے سی آر کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد۔17 اکٹوبر(سیا ست نیوز) عدالت کی جانب سے حکومت اور ہڑتالی ملازمین کے درمیان بات چیت کے احیاء کے مشورہ پر چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج پرگتی بھون میں جائزہ اجلاس کے دوران جمعہ کو عدالت میں آر ٹی سی ہڑتال کی سماعت کے دوران اختیار کئے جانے والے موقف پر تبادلۂ خیال کیا اور ہدایت دی کہ ریاست میں اب تک جو بسیں ڈپو کی حد تک محدود رکھی گئی تھیں ان بسوں کو بھی سڑکوں پر نکال دیا جائے ۔ چیف منسٹر کے اس اجلاس میں وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر اجئے کمار کے علاوہ دیگر اعلی عہدیدار موجود تھے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جمعہ کو عدالت میں یہ استدلال پیش کئے جانے کا امکان ہے کہ حکومت نے ہڑتال کے آغاز سے قبل تین دور کی بات چیت تین سرکردہ عہدیداروںکی نگرانی میں شروع کی تھی لیکن اس بات چیت میں ناکامی اور مذاکرات کیلئے مزید وقت کے حصول کی کوشش کے دوران ہڑتال کا آغاز کردیا گیا جس پر حکومت نے انتباہ جاری کیا تھا اور آر ٹی سی ملازمین نے ہڑتال کا آغاز کرتے ہوئے حکومت کے انتباہ کو نظر انداز کیا جس کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ہڑتال کے سبب عوام کو کسی قسم کی تکالیف کا سامنا نہ کرنا پڑے اس کیلئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں اس کی مکمل تفصیلات کا جائزہ لیا گیا۔ جائزہ اجلاس کے دوران عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ آر ٹی سی کی جانب سے ریاست بھر میں زائد از 6500 بسیں چلائی جا رہی ہیں جس پر چیف منسٹر نے کہا کہ جمعہ سے ریاست میں تمام بسوں کی آمد و رفت کو یقینی بنانے اقدامات کئے جائیں ۔ انہو ںنے مؤظف ملازمین کو ڈرائیور و کنڈکٹر کی جائیدادوں پر تقرر کرنے کے سلسلہ میں جاری کردہ اعلامیہ پر حاصل ہونے والی درخواستوں کی تفصیلات سے آگہی حاصل کی اور ان امور کو جلد مکمل کرلینے کے احکام دیئے ۔ بتایاجاتا ہے کہ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے جمعہ کی دوپہر سے قبل آر ٹی سی کے مستقل منیجنگ ڈائرکٹر کے تقرر کے احکام جاری کردیئے جائیں گے اور ان کی اجرائی کے سلسلہ میں عدالت کو واقف کرواتے ہوئے حکومت کے اقدامات کی تفصیلات پیش کی جائیں ۔ ذرائع کے مطابق عدالت کی جانب سے ہڑتالی ملازمین سے مذاکرات کے احیاء کے سلسلہ میں احکامات جاری کئے جانے کی صورت میں حکومت نے منیجنگ ڈائرکٹر سے مذاکرات کروانے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت کی سطح پر کسی اور عہدیدارکو شامل نہ رکھتے ہوئے روایتی مذاکرات کروانے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے ملازمین کے متعلق اختیار کردہ موقف کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اب یہی صورتحال حکومت کیلئے تکلیف کا باعث بنتی جا رہی ہے۔