کاراباخ: آذربائیجان اور آرمینیا کے دستوں کے درمیان نگورنو کاراباخ کے خطے میں جھڑپیں جاری ہیں۔ پیر کے روز دونوں ممالک کی جانب سے بڑے شہری علاقوں پر ہوئی شلباری کے بعد عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آذربائیجان کی وزاتِ دفاع کا الزام ہے کہ آرمینیا کی افواج اس کے تین بڑے شہروں پر شلباری کر رہی ہیں۔ پیر کو آرمینیا نے آذربائیجان پر اس کے شہری علاقوں پر میزائیل داغنے کا الزام لگایا۔ پچھلے ایک ہفتہ سے جاری ان جھڑپوں میں اب تک 240 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں کر رہا ہے۔
ترک صدر کی مکمل جانبداری ،جنگ میں آذربائیجان کی حمایت
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردغان نے پیر کے روز ایک سرکاری اجلاس کے بعد آر ٹی ٹی ٹیلی ویڑن کے ذریعہ نشر ہونے والے بیانات میں زور ے کر کہا ہے کہ ترکی آذربائیجان کے ساتھ تھا اور اب بھی کھڑا ہے۔ آرمینیا کے خلاف لڑائی میں انقرہ آئندہ بھی باکو کی حمایت جاری رہے گا۔انہوں نے کہا آذربائیجان کے عوام بڑے مصائب سے گذر رہے ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترکی اپنا حق حاصل کرنے کی کوششوں میں آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم آذربائیجان کی مسلح افواج کی کامیابیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ہم ان فتوحات میں آپ کے ساتھ ہیں۔اے ایف پی کے مطابق ، پیر کو ناٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن نے کہا کہ برگ آذربائیجان کے قریبی اتحادی ترکی سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو آرمینیائی علیحدگی پسند ناگورنو کاراباخ خطے میں تنازعہ کے حل کے لیے استعمال کریں گے۔اسٹولٹن برگ کے یہ بیان ترک وزیر خارجہ مولود جاووش اوگلو سے بات چیت کے بعد جاری کیا۔ کل منگل کو آرمینیائی علیحدگی پسندوں اور آذربائیجان کی فوج کے درمیان لڑائی اپنے دوسرے ہفتہ میں داخل ہوگئی۔ اس جنگ میں اب تک 250 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ناٹو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میں توقع کرتا ہوں کہ کشیدگی میں کمی کے لیے ترکی اپنا زبردست اثرورسوخ استعمال کرے گا۔
