یونیورسٹیوں پر قبضہ کرنے فاشسٹ طاقتوں کی سازش۔ جے این یو طلبہ یونین کی صدر آشی گھوش کا خطاب
کولکتہ 14 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین لیڈر آشی گھوش نے آر ایس ایس اور بی جے پی کو ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ یونیورسٹیوں پر قبضہ کرنے فاشسٹ طاقتوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنائیں۔ آشی گھوش کولکتہ کے جادھوپور یونیورسٹی میں ایس ایف آئی کی ریالی سے خطاب کررہی تھیں۔ یہ ریالی مودی حکومت کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بطور احتجاج نکالی گئی۔ اُنھوں نے یونیورسٹیوں میں ہونے والے انتخابات کے امیدواروں کو اپنی تائید پیش کی۔ اُنھوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آزادانہ فضاء میں تعلیم حاصل کرنے کے تصور کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ جرأت مند اور بے باک اسٹوڈنٹ لیڈر نے کہاکہ زعفرانی طاقتیں اور اے بی وی پی نے جے این یو میں کئی مرتبہ گھسنے کی کوشش کی۔ 2017 ء سے اے بی وی پی یہاں پر قبضۃ کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن جے این یو کے طلبہ نے شدید مزاحمت کرتے ہوئے انھیں ناکام بنایا ہے۔ اے بی وی پی کے لوگوں کو ایک انچ بھی آگے بڑھنے نہیں دیجئے۔ اگر وہ لوگ آپ پر حاوی ہونے کی کوشش کریں تو پوری طاقت کے ساتھ پیچھے ڈھکیل دیں تاکہ اِس ملک کو اِن فاشسٹ طاقتوں سے بچایا جاسکے۔ آشی گھوش جن کے سر پر مرہم پٹی تھی اور چہرے پر خراشیں دیکھی جارہی تھیں جے این یو میں حملہ کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ میں واحد طالبہ ہیں جنھوں نے پوری مزاحمت سے پولیس کا ظلم کا سامنا کیا۔ اُنھوں نے آر ایس ایس بی جے پی کو موجودہ حالات میں خطرناک طاقتیں قرار دیا۔ گھوش کولکتہ میں 13 فروری سے مخالف سی اے اے سلسلہ وار احتجاج میں شرکت کررہی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اے بی وی پی نے پہلی مرتبہ 8 سنٹرل پیانل پوسٹس پر مقابلہ کیا تھا۔ 19 فروری کو جے این یو کے طلبہ یونین کے انتخابات میں بھی حصہ لینے کا پروگرام بنایا ہے۔ ایک سوال پر کہ مخالف سی اے اے ریالی کی پولیس نے اجازت دینے سے انکار کیا ہے، اُنھوں نے کہاکہ پولیس اِس طرح کے پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ہندوتوا طاقتوں کی مدد کرسکے۔ جمعہ کے دن بھی گھوش نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شیپ پور تا ہوڑہ میدان تک مارچ کی قیادت کی۔ بعدازاں اُنھوں نے پریسڈنسی یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے بھی خطاب کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ تمام یونیورسٹیوں کے طلبہ کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ حصول تعلیم کے حق کو چھینا نہ جائے۔
