نئی دہلی 5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا فیصلہ سے چند دن قبل آر ایس ایس اور بی جے پی کے سینئر قائدین نامور مسلم مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں سے ربط پیدا کرنے کے لئے منگل کے دن اُن کا ایک اجلاس طلب کررہے ہیں جس میں عدالت کے فیصلہ کی نوعیت کا لحاظ کئے بغیر کشیدگی کے ماحول میں اضافہ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ کوئی جنونی جشن نہیں ہوگا اور نہ ہار کا ہنگامہ۔ اجلاس مرکزی وزیر برائے اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی کی قیامگاہ پر یہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ جس میں آر ایس ایس قائدین گوپال داس رام لال، سابق مرکزی وزیر شاہنواز حسین، جمعیۃ العلمائے ہند کے معتمد عمومی محمود مدنی، شیعہ مذہبی رہنما کلب صادق اور فلمساز مظفر علی شرکت کریں گے۔ آج مسلم دانشوروں اور مذہبی رہنماؤں کی شرکت کے ساتھ ایک تاریخی مذاکرات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں اُخوت ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی۔ مرکزی وزیر نقوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’کہیں پر بھی جیت کا جنونی جشن یا ہار کی ہاہاکاری، ہنگامہ نہیں چاہئے۔ اُس سے بچنا چاہئے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ شاہنواز حسین کے بقول متفقہ طور پر اجلاس میں سپریم کورٹ کے ایودھیا کے بارے میں سب کے لئے قابل قبول فیصلے کی توقع کی گئی اور کہاکہ اِس سے ملک مزید مستحکم ہوگا۔ اتحاد کا پیغام اِس اجلاس سے ملک کے ہر گوشے میں پہونچے گا۔ آر ایس ایس قائدین اور مسلمانوں کے درمیان مذاکرات کا یہ صرف آغاز ہے اختتام نہیں۔ آر ایس ایس کے کسی بھی صدر نے کبھی بھی اقلیتی طبقہ کے خلاف کوئی لفظ نہیں کہا۔ پولیس پر بھی الزام عائد نہیں کیا جانا چاہئے کیوں کہ اِس کا ایک بھی شخص مخصوص طبقہ کو نشانہ نہیں بناتا۔ ایک شخص کے بیان کو پوری تنظیم کا بیان نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ کلب جواد نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اجلاس ایودھیا کے سپریم کورٹ فیصلہ کا احترام کرنے کی اپیل کی جائے گی۔ یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ ایک اور اجلاس ہندو تنظیموں کے ساتھ جن میں وی ایچ پی اور شیوسینا شامل ہوں منعقد کیا جائے اور اُن سے اپیل کی جائے۔ فلمساز مظفرعلی نے کہاکہ آج کی ملک کی معیشت ابتر حالت میں ہے۔فرقہ وارانہ کشیدگی اسے مزید ابتر کرسکتی ہے۔