’’آر ایس ایس کا جن جب بھی بوتل سے نکلا ، خون خرابہ ہوا ‘‘

,

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد ، 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا جن جب بھی بوتل سے باہر نکلا اس نے ہمیشہ خون خرابہ کیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ میں ہندوستان کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) سے متعلق ایک آرٹیکل پوسٹ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آر ایس ایس کے انتہا پسند نظریے نے ایک ارب سے زائد افراد پر مشتمل جوہری ملک پر قبضہ کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ نسلی برتری اور مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں سے نفرت پر مبنی ہے۔ گزشتہ روز وزارت داخلہ ہند نے متنازعہ شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019 پر عملدرآمد کا اعلامیہ جاری کیا تھا جس کے مطابق شہریت (ترمیمی) ایکٹ کی شقوں کا اطلاق 10 جنوری سے شروع ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ میں گزشتہ برس 11 دسمبر کو شہریت ترمیمی ایکٹ منظور ہوا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 سے قبل 3 پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بودھوں، جین، پارسیوں اور عیسائیوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ اس بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بل کے تحت غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو تارکین وطن کو شہریت دی جائے گی، جو مارچ 1971 میں آسام آئے تھے اور یہ 1985 کے آسام معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ سی اے اے کو 12 دسمبر کو صدرجمہوریہ ہند کی منظوری دی گئی تھی۔ متنازعہ شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سے ہندوستان بھر میں خصوصاً ریاست آسام میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں کم از کم 25 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں 9 جنوری کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو متنازعہ شہریت قانون کے نفاذ پر سخت احتجاج کے باعث وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا آسام کا دورہ منسوخ کرنا پڑگیا تھا۔ اس سے قبل وزیراعظم مودی نے متنازع شہریت قانون کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ممبئی میں ایک اجلاس منعقد کروایا تھا جس میں نامور فلمی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم ایک بھی اداکار یا اداکارہ نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی۔ 4 جنوری کو ہندوستان کی ہندو قوم پرست حکومت کے منظور کردہ مسلمان مخالف شہریت قانون کے خلاف جنوبی شہر بنگلور میں تقریباً 30 ہزار، سلیگوڑی میں 20 ہزار سے زائد اور چینائی میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا جبکہ حیدرآباد ، نئی دہلی، گوہاٹی اور دیگر شہروں میں بڑی ریلیاں نکالی گئی تھیں۔