پروفیسر کودنڈارام کا سوال، کے سی آر کو بیدخل کرنا کوئی مشکل کام نہیں
حیدرآباد۔17 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ جناسمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈارام نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ جب آر ٹی سی خسارے میں ہے تو پھر حکومت کی آمدنی میں کمی کے لیے کون ذمہ دار ہیں۔ کودنڈارام نے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی سی کے خسارے کا بہانہ بناکر خانگیانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بار بار آر ٹی سی کے خسارے کا ذکر کیا جارہا ہے جبکہ حکومت کی آمدنی میں بھی کمی واقع ہوئی۔ جب خسارے کے لیے ملازمین کو ذمہ دار قراردیا جارہا ہے تو پھر حکومت کی آمدنی میں کمی کے لیے کون ذمہ دار ہے۔ اس کی وضاحت چیف منسٹر کو کرنی چاہئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت تین یا چار صنعتکاروں کو تمام تر مراعات دیتے ہوئے حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ آر ٹی سی کے اثاثہ جات اپنے قریبی افراد میں تقسیم کرنے کی سازش تیار کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کنٹراکٹرس کو فائدہ پہنچاتے ہوئے ریاست کو خسارے سے دوچار کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین بھی حکومت کے خلاف لڑائی کی تیاری کررہے ہیں۔ آر ٹی سی کی ہڑتال کے لیے کے سی آر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پروفیسر کودنڈارام نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران جو وعدے کیئے گئے تھے ان کی تکمیل کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ لیکن کے سی آر وعدوں سے انحراف کرچکے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تلنگانہ کے عوام آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال تائید میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے تمام طبقات کے سی آر حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں سے ناراض ہیں اور وہ وقت پر سبق سکھائیں گے۔ کودنڈارام نے کہا کہ جب ہم جدوجہد کے ذریعہ آندھرا کے حکمرانوں کو بیدخل کرسکتے ہیں تو کے سی آر کی بیدخلی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ انہوں نے 19 اکٹوبر کے تلنگانہ بند کی تائید کا اعلان کیا اور کہا کہ عوام کے تمام طبقات کو بند میں حصہ لینا چاہئے۔