آر ٹی سی مسئلہ پر ہائی کورٹ میں چیف منسٹر کا جھوٹ بے نقاب: محمد علی شبیر

   

آئی اے ایس عہدیداروں کو معذرت کرنی پڑی، چیف منسٹر اور وزراء کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 7 نومبر (سیاست نیوز) سابق وزیر اور قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ آر ٹی سی کے بارے میں ہائی کورٹ میں چیف منسٹر کا جھوٹ بے نقاب ہوچکا ہے۔ ہائی کورٹ کی کارروائی کے دوران سینئر آئی اے ایس عہدیداروں کی جانب سے عدالت سے معذرت خواہی پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ غلط تفصیلات فراہم کرنے پر آئی اے ایس عہدیداروں نے عدالت سے معذرت خواہی کرلی۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے مسئلہ پر گمراہ کن اور جھوٹ پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے چیف منسٹر اور عہدیداروں کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر سینئر عہدیداروں کو مجبور کررہے ہیں کہ وہ آر ٹی سی کے مسئلہ پر غلط اطلاعات ہائی کورٹ فراہم کریں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر عادی جھوٹے ہیں اور عوام ان کے جھوٹ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ عوامی جلسوں، اسمبلی، کونسل اور پریس کانفرنسوں میں کے سی آر کا جھوٹ معمول کی بات بن چکی ہے۔ کے سی آر نے سینئر عہدیداروں کو بھی جھوٹا بنادیا ہے اور انہیں عدالت کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔ آج کی سماعت کے دوران عدالت کی برہمی کو دیکھتے ہوئے عہدیداروں نے معذرت خواہی کرلی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ہائی کورٹ نے چیف منسٹر کے فیصلے کے خلاف ریمارکس کئے ہوں۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب سینئر آئی اے ایس عہدیداروں کی ہائی کورٹ نے بری طرح سرزنش کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی اے ایس عہدیدار اپنی کارکردگی کے ذریعہ ملک بھر میں عوام کے درمیان بہتر مقام رکھتے ہیں۔ لیکن کے سی آر کے جھانسے میں آکر بعض سینئر عہدیداروں نے اپنا وقار کھودیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عہدیدار چیف منسٹر کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ہائی کورٹ کو گمراہ کرسکتے ہیں تو وہ عدالت کے باہر کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ عہدیداروں کا رویہ جمہوریت کی بقاء کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ چیف منسٹر نے کبھی بھی آر ٹی سی مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی۔ ہائی کورٹ کے ریمارکس سے چیف منسٹر کے موقف کی نفی ہوتی ہے۔ محمد علی شبیر نے آر ٹی سی ہڑتال پر مرکزی حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہائی کورٹ میں مرکز کو یہ کہنے کے لیے ایک ماہ لگ گیا کہ ابھی تک اے پی ایس آر ٹی سی تقسیم نہیں ہوئی ہے۔ اگر یہ بات پہلے کہی جاتی تو صورتحال اس قدر سنگین نہ ہوتی۔ آر ٹی سی کی تقسیم سے قبل ہی کے سی آر من مانی اعلانات کررہے ہیں جس میں 48 ہزار ملازمین کی برطرفی کا اعلان شامل ہے۔ اگر بی جے پی حکومت بروقت مداخلت کرتی تو آر ٹی سی ملازمین کی اموات کو روکا جاسکتا تھا۔ ہزاروں خاندانوں سے کھلواڑ کرنے کے لیے کے سی آر اور ان کے عہدیداروں کے خلاف دھوکہ دہی اور سازش کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے جس کے نتیجہ میں خودکشی کے واقعات پیش آئے ہیں۔