آر ٹی سی ملازمین کو چیف منسٹر کے تیقنات پر میرے دل کی دھڑکن تیز: ہریش رائو

   

میں وزیر فینانس نہیں بلکہ چیف فینانشیل آفیسر، سی ایف او سمٹ سے خطاب
حیدرآباد۔ 5 ڈسمبر (سیاست نیوز) وزیر فینانس ٹی ہریش رائو نے کہا کہ ملک میں معاشی صورتحال ابھی بہتر نہیں ہوئی ہے۔ سی آئی آئی کے زیر اہتمام حیدرآباد میں منعقدہ سی ایف او 2019ء سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ہریش رائو نے کہا بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہمیں سبق لیتے ہوئے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں میرا رول سی ایف او (چیف فینانشیل آفیسر) کی طرح ہے۔ یہ عہدہ جسم میں دل کی طرح ہوتا ہے۔ وزیر فینانس کی حیثیت سے صرف فنڈس حاصل کرنا اور خرچ کرنا ہی سب کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت وہ وزیر آبپاشی تھے پراجیکٹس کی عاجلانہ تکمیل کے مقصد سے کام کرتے رہے۔ اس مرتبہ وزیر فینانس کی حیثیت سے میرا رول اس سے مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت چیف منسٹر کے سی آر نے آر ٹی سی ملازمین کے لیے مختلف اعلانات کئے میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں تلنگانہ غیر معمولی ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات ملک کی دیگر ریاستوں کے لیے مثالی ہیں۔ ریاست میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے ہریش رائو نے کہا کہ وزیر صنعت کے ٹی راما رائو کی جانب سے سرمایہ کاری کے سلسلہ میں کی جانے والی مساعی کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو فنڈس فراہم کرنے کے لیے بینک پہلی مرتبہ خصوصی میلے کا اہتمام کررہے ہیں۔ ہریش رائو نے صنعت کاروں اور صنعتی گھرانوں کے چیف فینانشیل آفیسرس سے خواہش کی کہ وہ ریاست کی معاشی صورتحال میں مزید بہتری کے لیے تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے مختلف فلاحی اسکیمات کا ذکر کیا اور کہا کہ ریاست میں سب سے زیادہ آسرا پنشن منظور کئے گئے۔ اس کے علاوہ بیوائوں کو بھی وظائف دیئے جارہے ہیں۔ یہ وظائف استفادہ کنندگان کے بینک اکائونٹ میں جمع کئے جاتے ہیں۔ ہریش رائو نے کہا کہ تلنگانہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات میں ملک کے لیے رول ماڈل ہے اور اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی مساعی قابل قدر ہے۔