آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کیلئے حکومت ذمہ دار، جیون ریڈی کا الزام

   

حکومت آر ٹی سی کو ختم کرنے کے درپے، مطالبات کی فوری یکسوئی پر زور
حیدرآباد۔ 4 اکٹوبر (سیاست نیوز) کانگریس رکن کونسل جیون ریڈی نے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے لیے حکومت کو ذمہ دار قراردیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ آر ٹی سی کے نقصانات کے لیے حکومت ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ادارے کو نقصانات سے ابھرنے میں مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے آج تک آر ٹی سی کے لیے مستقل منیجنگ ڈائرکٹر کا تقرر نہیں کیا گیا۔ عہدیداروں کو زائد ذمہ داری دی گئی اور وہ آر ٹی سی کے معاملات پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو آر ٹی سی کی ترقی اور ادارے کی بحالی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انتخابات کے موقع پر کے سی آر نے اعلان کیا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں خانگی گاڑیوں کی تعداد کو کم کیا جائے گا لیکن گزشتہ پانچ برسوں میں خانگی گاڑیوں کی تعداد میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آر ٹی سی ہڑتال کے نتیجہ میں تحریک میں نئی جان پڑگئی تھی۔ لیکن نئی ریاست کے قیام کے بعد کے سی آر نے اس ادارے کو فراموش کردیا ہے۔ جیون ریڈی نے کہا کہ بقایا جات کی مقررہ وقت پر عدم ادائیگی کے سبب آر ٹی سی ملازمین نے ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔ آر ٹی سی ملازمین کی تنخواہوں پر نظرثانی کو 30 ماہ مکمل ہوگئے لیکن حکومت نے عمل آوری نہیں کی۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ آپ تو پرگتی بھون میں دسہرا تہوار منائیں گے، کیا آر ٹی سی ملازمین اپنے گھر میں یہ تہوار نہ منائیں؟ جیون ریڈی نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال کا مقصد عوام کو پریشان کرنا نہیں بلکہ وہ اپنے مطالبات کی یکسوئی کے لیے ناگزیر صورتحال میں ہڑتال کے فیصلے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی میں 10 ہزار ملازمین کے تقررات باقی ہیں لیکن حکومت اس مسئلہ پر بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کے مسئلہ پر موقف کی وضاحت کرے۔ آندھراپردیش حکومت نے آر ٹی سی کو بچانے کے لیے حکومت میں ضم کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نئے سکریٹریٹ کی تعمیر کے بجائے موجودہ سکریٹریٹ سے کام کاج کا آغاز کرنا چاہئے۔ نئی عمارتوںکی تعمیر میں صرف کی جانے والی رقم آر ٹی سی کے تحفظ اور ملازمین کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین نے ہڑتال کی نوٹس دی لیکن 60 دن گزرنے کے باوجود ہڑتال کو روکنے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات سے قاصر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہڑتال کے ذریعہ ملازمین کو بدنام کرتے ہوئے حکومت آر ٹی سی کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے۔