آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات کی عدم یکسوئی پر احتجاج میں شدت کی دھمکی

   

سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری ویرا بھدرم کا بیان، آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام کی تائید
حیدرآباد۔ 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری ٹی ویرابھدرم نے آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام کے مطالبے کی تائید کی اور کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے آر ٹی سی ملازمین سے جو وعدے کئے تھے ان سے انحراف کرلیا گیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ویرابھدرم نے کہا کہ سی پی ایم آر ٹی سی ملازمین کے ہڑتال کی مکمل تائید کرتی ہے اور تلنگانہ بند کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 14 دن کے دوران آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال جاری ہے لیکن حکومت نے یکسوئی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔ آر ٹی سی ملازمین قانون کے مطابق نوٹس کی اجرائی کے بعد ہڑتال کررہے ہیں لیکن حکومت غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یکطرفہ طور پر برطرف کرنے کا اعلان کررہی ہے۔ حکومت کا یہ اعلان غیر دستوری ہے۔ ویرابھدرم نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کے مطالبات جائز ہیں اور ادارے کے تحفظ کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی اور قریبی افراد میں آر ٹی سی کے اثاثہ جات تقسیم کرنے کے لیے چیف منسٹر کوشاں ہیں۔ چیف منسٹر پر ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ویرابھدرم نے کہا کہ اگر چیف منسٹر کو اپنے وعدوں کا خیال ہوتا تو ہڑتال کی نوبت نہ آتی۔ کے سی آر کو چار کروڑ تلنگانہ عوام کی فکر نہیں بلکہ وہ صرف اپنے خاندان کی بھلائی کی فکر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ایم آر ٹی سی ملازمین کے ہر احتجاجی اقدام کی تائید کرے گی۔ کل 19 اکٹوبر کے تلنگانہ بند کو ریاست کے عوام کی بھرپور تائید حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے سی آر آر ٹی سی ملازمین کے مسائل حل نہیں کرتے ہیں تو سی پی ایم اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح تلنگانہ تحریک میں متحدہ جدوجہد کی گئی سیاسی جماعتیں اور عوامی تنظیمیں کے سی آر حکومت کے خلاف جدوجہد کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 19 اکٹوبر کے بعد احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی اور کے سی آر کے لیے اقتدار کو بچانا آسان نہیں ہوگا۔