50 فیصد سے زائد مسلم ملازمین نشانے پر، مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو متحرک ہونے کی ضرورت
حیدرآباد۔ 28 نومبر (سیاست نیوز) آر ٹی سی ہڑتال کے خاتمے کے باوجود حکومت کی جانب سے ملازمین کو ڈیوٹی پر رجوع کرنے سے انکار نے ملازمین اور ان کے خاندانوں میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے۔ لیبر کورٹ میں مقدمے کا بہانہ بناکر حکومت ملازمین کو ڈیوٹی پر رجوع کرنے تیار نہیں ہے اور ملازمین میں یہ اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ حکومت خانگیانے کے منصوبے کے تحت موجودہ ملازمین کی کٹوتی کے لیے رضاکارانہ سبکدوشی یا لازمی سبکدوشی کی اسکیم متعارف کرسکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے ملازمین کی کٹوتی کے سلسلہ میں عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت مرحلہ وار طور پر موجودہ ملازمین کو رضاکارانہ سبکدوشی کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ آر ٹی سی میں تقریباً 49 ہزار ملازمین ہیں اور ہر سال تقریباً 2 ہزار ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہوتے ہیں۔ رضاکارانہ سبکدوشی اسکیم کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر مسلم ملازمین ہوں گے جن کی عمر 50 سال سے تجاوز کرچکی ہے اور جو آر ٹی سی میں سرویس کے 20 سال مکمل کرچکے ہیں۔ حکومت کو عہدیداروں نے جو رپورٹ پیش کی اس کے مطابق 12000 ملازمین ایسے ہیں جن کی عمر 50 سال سے تجاوز کرچکی ہے۔ اگر رضاکارانہ یا لازمی سبکدوشی اسکیم پر عمل کیا جائے تو 12000 ملازمین کو خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ آر ٹی سی ملازمین کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے ملازمین میں 50 فیصد سے زائد مسلمان ہیں جو ڈرائیور، کنڈاکٹر اور میکانکل شعبہ جات سے تعلق رکھتے ہیں۔ آر ٹی سی ایک ایسا ادارہ ہے جہاں دیگر ادارہ جات کے مقابلہ مسلم ملازمین کی تعداد شروع سے ہی قابل لحاظ رہی ہے۔ حکومت کے منصوبوں کے پیش نظر مسلم ملازمین میں تشویش پائی جاتی ہے کیوں کہ رضاکارانہ سبکدوشی کے سبب ان کے خاندان بھی معاشی بحران کا شکار ہوجائیں گے۔ مسلم ملازمین کا کہنا ہے کہ آر ٹی سی میں ملازمت کرتے ہوئے وہ اپنے بچوں کو معیاری اور اعلی تعلیم کی فراہمی سے قاصر رہے۔ اگر 50 سال کی حد مقرر کرتے ہوئے انہیں سبکدوش کردیا گیا تو خاندان معاشی بحران کا شکار ہوجائے گا۔ کئی ملازمین اپنے خاندان کے واحد کمانے والے ہیں اور حکومت کا کوئی بھی فیصلہ مسلم خاندانوں کے لیے مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں آر ٹی سی کی جانب سے ایک بھی حادثہ نہ کرنے والے ڈرائیورس کو اعزازات پیش کئے گئے جن میں 90 فیصد ڈرائیورس مسلمان تھے۔
یہ وہ ڈرائیورس ہیں جنہوں نے آر ٹی سی میں اپنی سرویس کے 25 تا 30 سال مکمل کرچکے ہیں اور وہ سبکدوشی کے قریب ہیں۔ آر ٹی سی کے مسلم ملازمین کے اندیشوں کے ازالے سے مسلم تنظیموں اور قائدین کو کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ حکومت کی تائید کرنے والی مقامی سیاسی جماعت نے آر ٹی سی ہڑتال کے سلسلہ میں حکومت کے موقف کی تائید کی لیکن اسے مسلم ملازمین کے روزگار سے محرومی کے خطرے کو ٹالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ جس طرح قومی مسائل پر مسلم جماعتوں اور تنظیموں کا رویہ بے حسی کا ہے کچھ یہی حال آر ٹی سی کے مسلم ملازمین کے بارے میں ہے جو خود کو بے یار و مددگار تصور کررہے ہیں۔ آر ٹی سی جے اے سی اگر رضاکارانہ سبکدوشی اسکیم کو قبول کرے تو زیادہ تر متاثرین مسلمان ہوں گے۔ ہائی کورٹ سے بھی اس معاملے میں ملازمین کو کوئی خاص توقع نہیں ہے کیوں کہ تنخواہوں اور ہڑتال کے مسئلہ پر ہائی کورٹ نے حکومت کو کوئی ہدایت نہیں دی برخلاف اس کے ہڑتال کے مسئلہ کو لیبر کمشنر سے رجوع کردیا گیا۔ مسلم ملازمین کو امید ہے کہ اگر حکومت کی تائید کرنے والی جماعتیں تنظیمیں اور قائدین اس مسئلہ کو چیف منسٹر سے رجوع کریں تو ان کی ملازمت بچ سکتی ہے اور خاندان سڑک پر آنے سے بچ جائیں گے۔