آر ٹی سی کو خانگیانے کا خطرہ ٹل گیا: جگاریڈی

   

کرایوں میں اضافے پر کانگریس احتجاج کرے گی، تلنگانہ میں جرائم میں اضافہ پر اظہار تشویش
حیدرآباد۔ 29 نومبر (سیاست نیوز) کانگریس رکن اسمبلی جگاریڈی نے چیف منسٹر کے الزامات کو مسترد کردیا کہ آر ٹی سی ہڑتال کی آڑ میں کانگریس نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جگاریڈی نے کہا کہ 52 دنوں تک جاری رہی ہڑتال کے نتیجہ میں نہ صرف عوام بلکہ آر ٹی سی ملازمین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس نے کبھی بھی آر ٹی سی ملازمین کو اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے آر ٹی سی کے بارے میں چیف منسٹر کے اعلانات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کے تحفظ کے لیے اقدامات پر وہ کے سی آر سے اظہار تشکر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے آر ٹی سی کو خانگیانے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اب آر ٹی سی کو خانگیانے کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ آر ٹی سی کرایوں میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے جگاریڈی نے کہا کہ اگر عوام کی جانب سے مخالفت ہوتی ہے تو کانگریس پارٹی عوام کی طرف سے جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو کے سی آر لاکھ گالیاں دے لیں، ہم ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دیں گے۔ جگاریڈی نے کہا کہ دراصل آر ٹی سی ملازمین کی دشواریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چیف منسٹر نے اعلانات کئے۔ حالانکہ یہ اعلانات بہت پہلے کئے جانے چاہئے تھے۔ تلنگانہ میں خواتین پر مظالم اور قتل کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جگاریڈی نے کہا کہ پولیس کو مزید چوکسی کی ضرورت ہے۔ بہتر پولسنگ کے ذریعہ جرائم پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے وٹرنری ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے قتل کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت کو مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے چوکس ہونا چاہئے۔ انہوں نے چیف منسٹر اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ شاہراہوں پر موجود دھابے اور مضافاتی علاقوں میں مزید چوکسی کی ضرورت ہے تاکہ سنسان علاقوں میں مجرمین کو جرائم کا موقع نہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں تلنگانہ میں جرائم کی شرح میں اضافہ باعث افسوس ہے۔ چیف منسٹر کو اس سلسلہ میں پولیس عہدیداروں کے ساتھ اعلی سطحی اجلاس منعقد کرنا چاہئے۔