ڈیوٹی پر واپس نہ ہونے پر برطرف کرنے حکومت کی دھمکی ، آج اعلیٰ سطحی اجلاس ، یونین قائدین کا اٹل موقف
ڈرائیونگ لائسنس یافتہ 3000 تا 4000 مرد و خواتین کو ملازمتیں
صورت حال پر وزیر ٹرانسپورٹ کی مسلسل نگرانی
متبادل ٹرانسپورٹ پالیسی زیر غور
7000 خانگی بسوں کو روٹ پرمٹس
حیدرآباد ۔ 5 ۔ اکٹوبر : ( پی ٹی آئی / سیاست نیوز ) : تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ ( ٹی ایس آر ٹی سی ) کی بسیں ملازمین کی یونینوں کی طرف سے ہفتہ کو غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کردی گئی ۔ جس کے سبب ریاست بھر میں تمام آر ٹی سی بسیں سڑکوں سے غائب رہیں اور مسافرین کو سخت دشواریاں پیش آئیں ۔ واضح رہے کہ ریاستی حکومت کی تین رکنی کمیٹی اور آر ٹی سی یونینوں کے مابین بات چیت ناکام ہونے کے جمعہ کو آدھی رات کے بعد سے یہ ہڑتال شروع ہوئی تھی ۔ اس ہڑتال سے ہزاروں مسافرین مختلف مقامات پر پھنس گئے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت نے ایک مستقل ٹرانسپورٹ پالیسی بنانے کا فیصلہ کی ہے ۔ پواڈا اجئے کمار نے آر ٹی سی کے ہڑتالی ملازمین کو خبردار کیا کہ اگر وہ ہفتہ کو 6 بجے شام تک رجوع بہ کار نہ ہوں گے تو انہیں آر ٹی سی اسٹاف سے برطرف تصور کیا جائے گا اور مستقبل میں انہیں کسی بھی صورت میں ملازمت پر واپس نہیں لیا جائے گا ۔ اس ہڑتال پر بشمول کانگریس و بی جے پی مختلف اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تنقید کی ہے ۔ ہڑتالی ملازمین کے مطالبات میں آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام ، مختلف مخلوعہ جائیدادوں پر بھرتیاں ، ڈرائیورس اور کنڈکٹرس کو ملازمت کی ضمانت ، پے ریویژن کمیشن 2017 پر عمل آوری وغیرہ شامل ہے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ ہڑتال سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے حکومت تین راستوں اور امکانات پر غور کررہی ہے ۔ جن میں ڈرائیونگ لائسنس کے حامل نوجوان مرد و خواتین سے درخواستوں کی طلبی اور بسیں چلانے کے لیے روزگار کی فراہمی ، 3000 تا 4000 خانگی گاڑیوں کا حصول بھی شامل ہے ۔ علاوہ ازیں 7000 خانگی بسوں کو روٹ پرمٹس جاری کئے جائیں گے ۔ حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ جس میں متبادل ٹرانسپورٹ پالیسی غور کیا جائے گا ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ہڑتال سے پیدا شدہ صورتحال پر وزیر ٹرانسپورٹ مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ یونین قائدین نے کہا کہ کارپوریشن کو حکومت میں ضم کرنے کے علاوہ ان کے دیگر کئی مطالبات کی یکسوئی میں حکومت کی ناکامی کے بعد ہی انہوں نے ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹی ایس آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی ( جے اے سی ) کے ارکان نے ہفتہ کو اپنے احتجاجی مظاہرہ کے دوران حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ ٹی ایس آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لیڈر اشواتما ریڈی نے کہا کہ ہڑتال مکمل رہی تمام ورکروں نے رضاکارانہ طور پر ہڑتال میں حصہ لیا ۔ ٹی ایس آر ٹی سی یونین کے قائدین نے ہڑتال کی مکمل کامیابی کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ 50,000 ملازمین اس ہڑتال کا حصہ ہیں ۔ ہڑتال کے باوجود بس خدمات متاثر نہ ہونے سے متعلق اطلاعات غلط ہیں ۔ حیدرآباد میٹرو ریل لمٹیڈ کے منیجنگ ڈائرکٹر این وی ایس ریڈی نے کہا کہ میٹرو ٹرینس چند گھنٹے زائد چلائی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین خدمات صبح 5 بجے شروع ہورہی ہیں اور 11-30 بجے رات آخری ٹرین چلائی گئی ۔ این وی ایس ریڈی نے کہا کہ تقریبا تمام اسٹیشنوں پر معمول سے کافی زائد مسافرین دیکھے گئے ۔ لیکن تاحال یہ ہجوم قابل کنٹرول رہا اور کل بھی ایسا ہی رہے گا ۔ تاہم ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں پیر کو مسافرین کے بڑے ہجوم کو سفر کی سہولت فراہم کرنا ایک چیلنج ثابت ہوگا ۔۔