گوہاٹی : آسام کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ترون گوگوئی کا آج گوہاٹی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل میں علاج کے دوران انتقال ہو گیا۔ ریاست کے وزیر صحت ہیمنت بسوا شرما نے صبح میں بتایا تھا کہ کانگریس کے سینئر لیڈر 84 سالہ گوگوئی کی طبیعت مزید خراب ہوگئی ہے اور انھیں پوری طرح سے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ لیکن ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے بعد بھی انھیں بچایا نہیں جا سکا۔ صدر پردیش کانگریس ریپون بورا نے کہاکہ سابق چیف منسٹر آسام کی آخری رسومات جمعرات کو گوہاٹی میں انجام دی جائیں گی ۔ وہ کووڈ۔19 سے متعلق پیچیدگیوں میں مبتلا تھے اور علاج کے دوران فوت ہوگئے ۔ اُن کی آخری خواہش کے مطابق میت کو آخری دیدار کے لئے مندر ، مسجد اور چرچ میں رکھا گیا ۔نائب صدر ایم وینکیا نائیڈؤ اور وزیراعظم نریندر مودی نے گوگوئی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا۔ کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں گوگوئی کے اہل خانہ کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’ترون گوگوئی ایک سچے کانگریسی تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی آسام کے ہر شخص اور کمیونٹی کو ایک ساتھ جوڑنے میں صرف کر دی۔ میرے لیے وہ ایک عظیم شخصیت اور استاذ کی طرح تھے۔ وہ 21 نومبر سے وینٹی لیٹر پر تھے۔ گوگوئی اگست سے تین مرتبہ جی ایم سی ایچ میں بھرتی ہوئے۔ریاست کے تین مرتبہ وزیراعلی رہ چکے ترون گوگوئی 25 اگست کو کورونا پازیٹیو پائے گئے تھے۔ اُنھوں نے 2001 ء سے 2016 ء تک آسام کی وزارت اعلیٰ سنبھالی ۔ وہ چھ مرتبہ ایم پی اور دو مرتبہ مرکزی وزیر بھی رہے تھے ۔