آسٹریا نے وہ مسجد بند کر دی جہاں حملہ آور جاتا تھا

,

   

جرمنی میں حملہ آور کے ساتھیوں سے پوچھ تاچھ جاری

ویانا:آسٹریا نے اس مسجد اور اسلامک ایسوسی ایشن کو بند کر دیا ہے، جہاں پیر کے روز ویانا میں فائرنگ کر کے چار افراد کو ہلاک کرنے والا حملہ آور جایا کرتا تھا۔ آسٹریا کی وزیر یکجہتی سوزین راب نے جمعہ کے روز ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آور کی انتہا پسندی کی جانب راغب ہونے کے پس منظر میں ان دونوں جگہوں کا رول تھا جنہیں اب بند کر دیا گیا ہے۔بیس سالہ جہادی کو پولیس نے دہشت گرد واقعہ کے چند ہی منٹوں کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اور بعد میں اس کی شناخت ویانا ہی کے ایک شہری کے طور پر کی گئی تھی۔جرمنی کی پولیس نے بھی جمعہ کے روز، اْن چار اشخاص کے گھروں اور کاروباروں کی تلاشی لی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے حملہ آور سے رابطے تھے۔آسٹریا کے حکام مارے جانے والے شخص کو انتہا پسند مذہبی خیالات رکھنے والا دہشت گرد قرار دے رہے ہیں۔ویانا کی پولیس کے سربراہ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ جرمنی میں ان افراد سے بھی جرمن انٹیلی جنس پوچھ گچھ کر رہی ہے، جنہوں نے موسم گرما میں آسٹریا میں حملہ آورکے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔ یہاں یہ تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہیورپی ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں پیر کی شب چھ مختلف مقامات پر فائرنگ کے واقعات میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 15 زخمی ہو گئے تھے۔ویانا پولیس چیف نے منگل کو نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ دہشت گردوں کے حملے میں ایک خاتون اور دو مرد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ بعد ازاں سرکاری ٹی وی پر ایک اور خاتون کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی۔پولیس چیف کے بقول پولیس نے جس حملہ آور کو نشانہ بنایا ہے وہ وزیرِ داخلہ کے مطابق شدت پسند تنظیم ‘داعش’ کا حامی تھا۔تاہم پولیس چیف نے ہلاک شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ آسٹریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘اے پی اے’ کے مطابق زخمیوں میں سے سات کی حالت تشویش ناک ہے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق حملے کے بعد سرحدوں پر تلاشی سخت کر دی گئی ہے ۔ امریکہ سمیت مختلف ممالک کے علاوہ اقوامِ متحدہ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے آسٹریا کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق حملے کے بعد لوگوں نے بارز اور ہوٹلوں میں پناہ لی اور مرکزی شہر میں ٹرانسپورٹ کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں کا محاصرہ کرنے کے بعد شہریوں کو گھروں میں ہی رہنے کی ہدایت دی تھی۔