کینبرا: آسٹریلیا نے امریکی افواج کے انخلا کے مد نظر کابل کا اپنا سفارتخانہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر حالات نے اجازت دی تو اسے پھر کھول دیا جائے گا۔ افغانستان سے امریکہ سمیت تمام بیرونی فورسز کے انخلا کے پس منظر میں آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے 25 مئی منگل کے روز اعلان کیا کہ کابل میں آسٹریلوی سفارتخانہ آئندہ تین روز کے اندر بند کر دیا جائے گا۔ اس اعلان کے مطابق اس ہفتے 28 مئی بروز جمعہ افغانستان میں آسٹریلیا کا سفارت خانہ اپنا کام کاج بند کر دے گا۔ وزیر خارجہ میریز پیئنے کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے موریسن نے کہا کہ افغانستان سے فوری طور پر بین الاقوامی فوجی انخلا کی روشنی میں، آسٹریلیا عبوری اقدام کے تحت افغانستان میں سفارتی نمائندگی کے لئے اس وزیٹنگ ایکریڈیشن طریقہ کار کی جانب واپس ہو گا جس کا اس نے 1969 میں سفارتکاری کے آغاز سے لیکر 2006 تک استعمال کیا تھا۔ اس بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ان اقدام کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ افغانستان اور اس کی عوام کے لئے اس کا جو عزم ہے اس سے وہ منحرف ہو رہا ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جب حالات اجازت دیں گے تو سفارتخانے کو دوبارہ کھولا جائے گا۔امریکہ نے افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کے جس منصوبے کا اعلان کیا تھا اس پر عمل جاری ہے اور وہ رواں سال 11ستمبر تک افغانستان سے پوری طرح سے نکل جائے گا۔ اسی تاریخ کو شدت پسند تنظیم القاعدہ نے نیویارک کے ٹوئن ٹاورز اور پینٹاگون پر حملہ کیا تھا۔
