آندھراپردیش میں این پی آر پر عمل آوری کی تیاریاں

   

حکومت کے احکامات، عہدیداروں کو دستاویزات کیلئے اصرار نہ کرنے کی ہدایت
حیدرآباد 23 جنوری (سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ ملک میں شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے، آندھراپردیش کی حکومت نے مردم شماری کے نام پر این پی آر پر عمل آوری کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ ضلع کلکٹرس کو ہدایات جاری کی گئیں۔ پرنسپل سکریٹری جی اے ڈی ششی بھوشن کمار نے جی او آر ٹی 124 جاری کیا جس کے تحت عہدیداروں کو مردم شماری اور این پی آر کے تحت رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ اپریل تا ستمبر 45 دن میں قومی آبادی رجسٹر کی تیاری کی مہم چلائی جائے گی جس کے تحت عوام سے تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ چونکہ این پی آر پر عمل آوری کے سلسلہ میں عوام کے مختلف گوشوں میں اندیشوں اور شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے لہذا ضلع کلکٹرس اور پرنسپل سینسکس آفیسرس کو سوالات کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ مہم کے دوران عوام کو اسنادات پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مردم شمار عوام کی جانب سے دیئے گئے جوابات کو ریکارڈ کرے گا اور اُسے کسی بھی سوال کے جواب پر اصرار کا اختیار نہیں۔ مردم شمار عوام سے دستاویزات طلب نہیں کرے گا۔ اگر عوام کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کریں تو اُن پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔ احکامات میں کہا گیا ہے کہ این پی آر کی تیاری میں شامل مردم شماروں اور دیگر عہدیداروں کو اِس بات کی ٹریننگ دی جارہی ہے کہ عوام سے دستاویزات طلب نہیں کئے جائیں گے۔ تمام ضلع کلکٹرس اور پرنسپل سینسکس آفیسرس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ٹریننگ کلاسیس کے دوران مذکورہ وضاحتوں سے عہدیداروں کو واقف کرائیں تاکہ قومی آبادی رجسٹر کی تیاری میں آسانی ہو۔