دواخانوں میں 300 سے زائد مریض رجوع، چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کا دورہ
حیدرآباد : آندھراپردیش کے ایلور میں پراسرار بیماری عوام میں خوف و دہشت کا باعث بن چکی ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے ایلورو میں عوام اچانک غش کھاکر گرنے کے کئی واقعات پیش آئے اور دواخانوں میں 300 سے زائد مریض رجوع کئے گئے جن میں کئی علامات پائی گئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹرس کی جانب سے اِس مرض کا پتہ چلانے کوشش کی جارہی ہے جس میں مرد و خواتین اور بچے اچانک بیہوش ہوجاتے ہیں یا پھر اُنھیں دورے پڑتے ہیں۔ کئی افراد میں اچانک کمزوری پیدا ہوگئی اور اُنھوں نے قئے کی شکایت کی۔ پراسرار بیماری نے ایلور کے علاوہ اطراف کے علاقوں میں دہشت پھیلادی ہے اور عوام دیگر علاقوں کو منتقل ہورہے ہیں تاکہ مرض سے بچ سکیں۔ وزیر صحت نے عہدیداروں کے ساتھ ایلور کا دورہ کرکے عوام کو بھروسہ دلایا کہ حکومت سے علاج کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔ سرکاری دواخانوں میں گزشتہ دو دن میں 345 مریضوں کو رجوع کیا جاچکا ہے۔ مرض کا شکار ہونے عمر کی کوئی قید نہیں ہے لہذا عوام اِس سے بچنے احتیاطی تدابیر تلاش کررہے ہیں۔ دواخانوں سے رجوع ہونے پر اُنھیں ابتدائی طبی امداد دی جارہی ہے جس سے کئی مریضوں کی حالت خطرہ سے باہر ہوئی۔ مرض سے ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے ایلور ٹاؤن پہونچ کر دواخانہ میں مریضوں کی عیادت کی۔ اُنھوں نے حکام کو ہدایت دی کہ علاج میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ دو دنوں سے پراسرار مرض کا شکار افراد کے سرکاری اور خانگی دواخانوں سے رجوع ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک 45 سالہ شخص جس کی سریدھر کی حیثیت سے شناخت کی گئی، اتوار کو اُس کی موت واقع ہوئی۔ گھر والوں نے نعش کو حاصل کرلیا تھا لیکن پولیس نے دوبارہ ہاسپٹل منتقل کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم کرایا تاکہ مرض کا پتہ چلایا جاسکے۔