آندھراپردیش میں کانگریس پارٹی کے صفایا کے بعد تلگودیشم بھی نشانہ پر

   

Ferty9 Clinic

متعدد قائدین کی عنقریب بی جے پی میں شمولیت: شیوراج سنگھ چوہان

حیدرآباد /14 جولائی ( سیاست نیوز ) قومی نائب صدر بی جے پی و سابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش مسٹر شیو راج سنگھ چوہان نے پرزور الفاظ میں کہا کہ ریاست آندھراپردیش میں کانگریس پارٹی مکمل طور پر خالی ہوچکی ہے ۔ کوئی اہم قائد ریاست میں کانگریس پارٹی سے وابستہ نہیں ہے اور اسکے علاوہ اب تلگودیشم پارٹی بھی خالی ہوجانے والی ہے ۔ تلگودیشم پارٹی کے کئی اہم قائدین بشمول سابق وزراء ، سابق ارکان اسمبلی وغیرہ بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ جبکہ گذشتہ چند دن قبل ہی تلگودیشم پارٹی کے چار اہم قائدین ارکان پارلیمان نے تلگودیشم پارٹی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں ۔ ریاست آندھراپردیش میں جاری بی جے پی رکنیت سازی مہم میں حصہ لینے کیلئے وجئے واڑہ کا دورہ کرتے ہوئے مسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے رکنیت سازی کے سلسلہ میں منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف منسٹر آندھراپردیش و قومی صدر تلگودیشم پارٹی مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو بالواسطہ تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قومی سیاست میں اتھل پتھل کرنے کی کوشش کرنے والے مسٹر این چندرا بابو نائیڈو اب اپنی شکست کے غم سے ہی سنبھلنے کے موقف میں نہیں ہیں اور اتنی بڑی شکست سے دوچار ہوئے ہیں کہ اب قومی سیاست کا لفظ بھی زبان پر نہیں آرہا ہے ۔ انہوں نے مسٹر چندرا بابو نائیڈو کو ہی اپنی راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ( چندرا بابو نائیڈو نے ) ریاست آندھراپردیش کی ترقی پر اولین ترجیح دینے کے بجائے صرف اور صرف وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی پر الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف غلط پروپگنڈہ کرنے اور جدوجہد کرنے میں ہی مصروف رہے ۔ جس کے نتیجہ میں وہ ریاست کے عوام کو حکومت کی جانب سے ریاستی ترقی کیلئے کیا اقدامات کئے گئے بتا نہیں پائے ۔ جس کے باعث ریاستی عوام میں بھی تلگودیشم پارٹی کے تعلق سے مخالف حکومت لہر پائی گئی اور ریاستی عوام نے خاموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تلگودیشم پارٹی کو زبردست شکست سے دوچار کرتے ہوئے وائی یس آر کانگریس پارٹی کو شاندار اکثریت کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ مسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ مسٹر چندرا بابو نائیڈو چیف منسٹر رہنے پر ریاست آندھراپردیش کیلئے خصوصی موقف کی ضرورت نہ ہونے کا اظہار کرتے ہوئے ریاست کیلئے خصوصی پیاکیج دینے کی خواہش کرتے ہوئے خصوصی پیاکیج حاصل کیا تھا اور اس پیاکیج کے مطابق مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو کئی ایک طریقوں کے ذریعہ وافر مقدار میں فنڈز فراہم کی اور ان رقومات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر فنڈز فراہم نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے تاکہ اپنی جیب میں ڈالی گئی رقومات پر سے عوامی توجہ ہٹائی جاسکے ۔ انہوں نے ریاست آندھراپردیش میں وراثتی سیاست چلنے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی اب اس طریقہ کار کو ہرگز چلنے نہیں دے گی اور نہ ہی اس طرح کی سیاست کیلئے کسی طرح کی ہمت افزائی کرے گی ۔ قومی نائب صدر بی جے پی نے کانگریس کو ہدف ملامت بناتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کی شاندار کامیابی کو دیکھتے ہوئے صدر کانگریس پارٹی کے عہدے سے مسٹر راہول گاندھی راہ فرار اختیار کرچکے ہیں ۔ پارٹی کے کیپٹن کہلائے جانے والے خواہ کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے ۔ آگے بڑھ کر پارٹی کو چلانا چاہئے ۔ لیکن مسٹر راہول گاندھی نے درمیان میں پارٹی قیادت کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں میں صفر موقف رکھنے والی بی جے پی قومی سطح پر شاندار کامیابی کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ثابت ہوئی ۔ اس طرح اب ریاست آندھراپردیش میں بھی نچلی سطح سے پارٹی کو مضبوط و مستحکم بناتے ہوئے اقتدار حاصل کرنا ہی پارٹی کا اگلا نشانہ ہوگا ۔