حیدرآباد۔ خانگی اسکولوں کی جانب سے آن لائین کلاسس کے نام پر طلبہ کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی شکایت کرتے ہوئے پیرنٹس اسوسی ایشن نے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اسوسی ایشن نے شکایت کی کہ اسکولوں کے آغاز کے بغیر والدین اور سرپرستوں پر فیس ادا کرنے کے لیے اسکولوں کی جانب سے دبائو بنایا جارہا ہے۔ خانگی اسکولوں کی فیس اور آن لائین کلاسس کے مسئلہ پر داخل کی گئی درخواست کی آج سماعت کی گئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ جی او 46 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ فیس وصول کررہے ہیں۔ اسکولوں کی جانب سے روانہ کردہ مسیجس اور وائس مسیجس ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کئے گئے ۔ ہائی کورٹ نے حکومت سے سوال کیا کہ آن لائین کلاسس کے بارے میں آیا کوئی سرکولر جاری کیا گیا ہے؟ عدالت نے کہا کہ ہریانہ میں حکومت نے آن لائین کلاسس پر پابندی عائد کردی ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کی حکومتوں نے اسکولوں کو ہدایت دی کہ وہ طلبہ پر بوجھ عائد نہ کریں۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو مشورہ دیا کہ آن لائین کلاسس کے بارے میں یکساں پالیسی تیار کرے۔ آن لائین کلاسس کے بارے میں حکومت کے موقف کے بارے میں سوال کیا گیا۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ آن لائین کلاسس کے بارے میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر جائزہ لے رہے ہیں۔