آن لائن کلاسیں کی غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے کی پالیسی کالعدم

   

Ferty9 Clinic

امریکی حکومت کے خلاف یونیورسٹیوںکا مقدمہ ، طلبہ اب ضرورت پڑنے پر آن لائن کلاسیس لے سکتے ہیں
واشنگٹن : میساچوسیٹس میں واقع ہارورڈ یونیورسٹی اپنی تمام تر تعلیمی سرگرمیاں آن لائن کر چکی ہی امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت اْن غیر ملکی طلبا کو ملک بدر کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہوگئی ہے جن کی تعلیمی سرگرمیاں کورونا کے باعث مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں۔ امریکہ کی حکومت کی جانب سے یہ یو ٹرن نئی پالیسی کے اعلان کے ایک ہفتے کے بعد ہی لیا گیا ہے۔اس سے قبل 6 جولائی کو امریکہ کے محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) نے کہا تھا کہ امریکی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم وہ غیر ملکی طلبا جن کی کلاسیں مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں، ان کا ملک میں رہنا غیر قانونی قرار پائے گا۔ محکمے نے کہا تھا کہ طلبا کو یا تو امریکہ چھوڑنا ہوگا، اور اگر وہ فال 2020 یعنی خزاں کے سیمیسٹر کے دوران امریکہ میں رہنا چاہتے ہیں تو انھیں ایسا کوئی کورس لینا ہوگا جہاں آف لائن کلاسیں جاری ہوں۔ امریکہ کی صفِ اول کی یونیورسٹیوں ہارورڈ اور میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے اس منصوبے پر حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا۔اب میساچوسیٹس کے ضلعی جج ایلیسن بروز کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان تصفیہ ہوگیا ہے۔اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس معاہدے کے تحت مارچ میں وبا پھوٹنے پر جو پالیسی نافذ کی گئی تھی، اسے بحال کیا جائے گا جس کے مطابق غیر ملکی طلبا ضرورت ہونے پر اپنی کلاسیں آن لائن بھی لے سکتے ہیں اور اسی دوران تعلیمی ویزا پر ملک میں قانونی طور پر مقیم رہ سکتے ہیں۔یاد رہے کہ ہر سال دنیا بھر سے بڑی تعداد میں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رْخ کرتے ہیں جس سے وہاں کی یونیورسٹیوں کو خاصی آمدنی ہوتی ہے۔ہارورڈ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر اگلے تعلیمی سال سے کورسز آن لائن پڑھائے جائیں گے جبکہ دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ایم آئی ٹی نے بھی کہا تھا کہ وہ آن لائن تعلیم ہی جاری رکھے گی۔