ضرورت مندوں کی مدد وقت کی اہم ضرورت، ذخیرہ اندوزی کرنا بدترین گناہ، علماء کرام کے بیانات
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔18 اپریل۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ضرورت مندو ںکی مدد اور ان پر رحم کا حکم دیا ہے اور واضح طور پر یہ کہا ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ریاست تلنگانہ اور شہر حیدرآباد میں آکسیجن کی قلت کی جو صورتحال کا سامنا شہریوں کو کرنا پڑرہا ہے اس کے لئے گیاس ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ وہ شہری بھی ہیں جو احتیاط کے نام پر سیلنڈرس اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور وہ استعمال میں نہیں ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں آکسیجن کی قلت نے شہریوں میں خوف و دہشت پیدا کردی ہے اور آکسیجن کی قلت کے مسئلہ کو فوری حل کرنے کیلئے ان لوگوں کو اپنے گھروں سے سیلنڈر نکالنے ہوں گے جو اپنی امکانی ضرورت کے نام پر ذخیرہ کئے ہوئے ہیں۔ اسلام میں کسی بھی شئے کی کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ موجود ہے لیکن ا س کے باوجود ادویات اور آکسیجن کی کالا بازار ی کرنے والوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی نافرمانی کی صورت میں جو عذاب آئے گا اس کا سامنا وہ کیسے کریں گے! کالا بازاری کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو شہر میں موجود بیماروں کا احساس کرنے کی ضرورت ہے۔ آکسیجن کی ایجنسیاں اور کوئی شخص آکسیجن سیلنڈر کا ذخیرہ کئے ہوئے ہے اور اگر کسی شخص کی موت آکسیجن کی عدم دستیابی کے سبب ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں اس کا ذمہ دار کون ہوگا اور اس کی موت کا وبال کس پر ہوگا! اللہ کے رسولﷺ نے جب کسی بھی شئے کی ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا ہے توپھر ایسے میں کس طرح سے زندگی بچانے والی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کی جاسکتی ہے! دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآبادمیں بعض ایجنسیوںکی جانب سے آکسیجن کی کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی کے علاوہ اس با ت کی بھی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ کئی شہریوں نے آکسیجن سیلنڈرس اپنے گھروں میں احتیاط کے نام پر ذخیرہ کئے ہوئے ہیں اور موجودہ حالات میں ایسا کرنا بھی درست نہیں ہے۔ مولانا حافظ محمد احسن بن محمد عبدالرحمن الحمومی خطیب و امام شاہی مسجد باغ عامہ نے اس مسئلہ پر عامۃ المسلمین سے اپیل کی کہ ہم خیر امت کی مثال بن کر پیش ہوں اور اگر ہمارے پاس سیلنڈرس روک رکھیں ہیں تو ان کو ضرورت مندوں کے حوالہ کریں تاکہ وہ اس سے استفادہ کرسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کا یہ ایمان ہونا چاہئے کہ ضرورت مندوں کی مدد کی صورت میں اللہ انہیں ضرورت پڑنے پر غیب سے اسباب بناتا ہے اسی لئے احتیاط کے نام پر بھی آکسیجن سیلنڈرس کا ذخیرہ کیا جانا درست نہیں ہے اور ایسے میں اگر کسی کی موت آکسیجن کی قلت سے ہوتی ہے تو اس کا وبال ان پر بھی ہوسکتاہے جنہوں نے ضرورت نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے پاس گیاس سیلنڈرس محفوظ کئے ہوئے تھے ۔ مولانا حافظ احسن بن محمد عبدالرحمن الحمومی نے کہا کہ جس کسی کے پاس آکسیجن سیلنڈر موجود ہیں وہ ضرورت مندوں کی ان کے ذریعہ مدد کو یقینی بنائیں اور جن تاجرین اور ایجنسی مالکین کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور کالابازاری کی جا رہی ہے انہیں اللہ کے عذاب کے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ اللہ کے حکم کی نافرمانی اور زندگیوں سے کھلواڑ کے مرتکب ہونے والوں اور ظالموں پر اللہ کی پکڑمضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے کورونا وائرس وباء کو بداعمالیوں اور عدول حکمی کا عذاب تصورکرتے ہوئے توبہ و استغفار کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ موجود حالات میں اپنے گناہوں کی توبہ کرنے کے بجائے شہر حیدرآباد میں بھی بعض گیاس ایجنسیوں کی جانب سے کالا بازاری کے ذریعہ دولت اکٹھا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فضیلۃ الشیخ محمد عبدالرحیم خرم جامعی نے آکسیجن کی قلت کے دورمیں گیاس ایجنسی کے ذمہ داروں کی جانب سے کی جانے والی حرکتوں کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ایجنسی کے ذمہ دار کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی کے مرتکب ہورہے ہیں وہ حرام دولت حاصل کر رہے ہیں کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے جس شئے کو حرام قرار دیا ہے اس کے ذریعہ دولت کا حصول اسی طرح ہے جس طرح شراب اور سود کے ذریعہ دولت حاصل کی جائے۔مولانا خرم جامعی نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صحابہ اکرامؓ کی صفت بیان فرماتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ ’’ اور( ان کے لئے) جنہوں نے ان کے گھر (یعنی مدینہ ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنالی ہے اور اپنی طرف ہجرت کرکے آنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ دے دیا جائے اس سے وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہیں رکھتے بلکہ خود اپنے اوپر انہیں ترجیح دیتے ہیں گو خود کتنی ہی سخت حاجت ہو(بات یہ ہے) کہ جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایاگیا وہی کامیاب (اور بامراد) ہے(سورہ حشر آیت نمبر 9 ) انہوں نے امت محمدیہ کو ایسی ہی صفت اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ امیر امارت ملت اسلامیہ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سخت ناپسند فرماتے ہیں جو اپنے حقیر کاروبار کے لئے جھوٹی قسم کھاتے ہیں اور شہر حیدرآباد میں ادویات بالخصوص انجکشن اور آکسیجن کی قلت کے دوران کئی لوگ قسم کھاتے ہوئے اضافی رقومات حاصل کر رہے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ دھوکہ ‘ فریب اور بددیانتی کرتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ انہوں نے مذکورہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے ہمارے ساتھ بددیانتی کی وہ ہم میں سے نہیں اور دھوکہ اور فریب جہنم میں ہیں۔ یعنی یہ کام کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ مولانا جعفر پاشاہ نے ایجنسیوں کے ذمہ داروں اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ذخیرہ اندوزی کرنے کے بجائے اپنے ہم وطنوں اور پڑوسیوں کی مدد کریں اللہ اس کا بہتر بدل انہیں عطا کرے گا۔امیر امارت ملت اسلامیہ نے بتایا کہ اللہ رب العزت سورہ آل عمران میں فرماتے ہیں بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں ( ایمان داری)کو تھوڑی سی قیمت کے بدلہ میں پیچ دیتے ہیں تو یہ وہ لوگ ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت ڈالے گا اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔مولانا مفتی عمر عابدین نے بتایا کہ جو مریض ہیں ان کے علاوہ اگر کوئی آکسیجن یا ادویات کا ذخیرہ کرتا ہے تو وہ ناجائز ہے۔انہوں نے بتایا کہ صحت مند شہریوں کو دوسروں کی مدد کرنی چاہئے ناکہ اپنی بیماری کا انتظار کرتے ہوئے آکسیجن کا ذخیرہ کرتے ہوئے گناہ کا مرتکب ہونا چاہئے ۔مولاناعمر عابدین نے بتایاکہ ضرورت کے تحت کسی شئے کے ذخیرہ کی اجازت ہے لیکن جان بچانے والی اشیاء اور ادویات کی مصنوعی قلت ‘ ذخیرہ اندوزی اور اضافی قیمتوں میں فروخت بلکل ناجائز ہے اور ایسے کرنے والے گناہ کے مرتکب ہیں۔