گاندھی ہاسپٹل میں آکسیجن پیداوار پلانٹ کے قیام کا منصوبہ
حیدرآباد۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں جن دواخانو ںمیں آکسیجن کی پیداوار کے سلسلہ میں پلانٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں گاندھی ہاسپٹل بھی شامل ہے۔ریاستی حکومت تلنگانہ کی جانب سے کورونا وائرس وباء کے دوران گاندھی ہاسپٹل کو کورونا وائرس کے علاج کیلئے مخصوص قراردیتے ہوئے کورونا کے مریضو ں کا علاج کیا جا رہا تھا اور کورونا وائرس کے دوران ریاست میں ہونے والی اموات کے سلسلہ میں جاری کردہ تفصیلات کے مطابق آکسیجن کی کمی کے سبب کئی اموات واقع ہوئی ہیں اور آکسیجن کی قلت کی وجہ سے پیدا شدہ حالات کو معمول پر لانے کیلئے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں 4 دواخانو ںمیں آکسیجن کی پیداوارکے پلانٹ نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان میں شہر حیدرآباد میں واقع گاندھی ہاسپٹل کو بھی شامل کیا گیا ہے جہاں جنوری 2021کے اختتام سے قبل آکسیجن کی تیاری کرنے والے خودکار پلانٹ کی تنصیب کے عمل کو مکمل کرلیا جائے گا۔ گاندھی ہاسپٹل میں فی الحال 20ہزار لیٹر اور 6ہزار لیٹر آکسیجن کی ٹینک موجود ہیں لیکن نئے منصوبہ کے تحت گاندھی ہاسپٹل میں آکسیجن پلانٹ کی تنصیب کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں گاندھی ہاسپٹل میں 1000 لیٹر فی منٹ آکسیجن کی تیاری ممکن ہوجائے گی اور آکسیجن کی قلت کا جو مسئلہ دواخانوں بالخصوص سرکاری دواخانوں میں رہا ہے وہ بڑی حد تک ختم ہوجائے گا۔شہر حیدرآباد میں کورونا وائرس کی وباء کے دوران آکسیجن کی قلت کے سبب سرکاری دواخانوں میں بھی خانگی آکسیجن سربراہ کی جا رہی تھی اور بعض دواخانو ںمیں مریضوں کو کہا جا رہا تھا کہ وہ مریض کیلئے باہر سے آکسیجن سلینڈر کا انتظام کریں ۔گاندھی ہاسپٹل میں جو آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے وہ خانگی کمپنیو ںکی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے اور اس کے لئے دواخانہ انتظامیہ کی جانب سے ماہانہ 30 لاکھ روپئے ادا کئے جا رہے ہیں لیکن اس پلانٹ کی تنصیب کے بعدریاست گاندھی ہاسپٹل میں آکسیجن کی باہریا خانگی کمپنیوں سے خریدی کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ گاندھی ہاسپٹل میں تیار کی جانے والی آکسیجن دیگر سرکاری دواخانوں کو سربراہ کی جاسکے گی۔