اپنی جان پر کھیل کر شہر کوبچانے والا مصری ڈرائیور

   

قاہرہ۔13 مئی (سیاست ڈاٹ کام )مصر کے صوبے الشرقیہ میں 51 سالہ ڈرائیور طلعت سالم نے العاشر من رمضان شہر کو خوف ناک تباہی سے بچا لیا۔ مذکورہ ڈرائیور 45 ٹن ایندھن سے بھرے اپنے ٹرک کوخالی کروا رہا تھا۔ اس دوران طلعت نے دیکھا کہ ٹرک کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی ہے۔ ڈرائیور تیزی سے حرکت میں آیا اور اپنے ٹرک کو بھگاتا ہوا رہائشی علاقے سے دور لے گیا۔ اس عمل کا مقصد شہریوں کی جانوں کو ٹرک کے دھماکے سے پھٹ جانے کے خطرے سے بچانا تھا۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے طلعت نے کہا کہ آگ کا بھڑکتا شعلہ دیکھتے ہی اس کے ذہن میں یہ بات آئی کہ وہ ایندھن سے بھرے ٹرک کو فوری طور پر رہائشی علاقے سے دور پہاڑیوں کی جانب لے جائے۔ بعد ازاں دور دراز علاقے میں پہنچ کر اس نے ٹینکر سے ایندھن کو باہر نکال دیا تا کہ ٹرک کے بقیہ حصے کو جلنے سے بچایا جا سکے۔طلعت نے مزید کہا کہ میں یہ جانتا تھا کہ رہائشی علاقے سے دور لے جاتے ہوئے میرے ٹرک کو دھماکے کا خطرہ درپیش ہے اور میری جان کو بھی خطرہ ہے تاہم میں نے اپنا یا اپنے بچوں کا نہیں سوچا بلکہ اس وقت مجھ پر ایک ہی دْھن سوار تھی کہ علاقے کی آبادی کو اس خوف ناک آگ سے بچا لوں جو پٹرول اسٹیشن پر ٹرک میں دھماکے کی صورت میں لگ جاتی۔ اگر میں چند منٹ سوچنے میں لگا دیتا تو پورا ایندھن اسٹیشن تباہ ہو جانا تھا۔واقعے کے فورا بعد آگ بجھانے والی 15 گاڑیاں جائے مقام کی جانب روانہ ہو گئیں۔ اس دوران علاقے کے سیکڑووں رہائشیوں نے آگ بجھانے کی کارروائی میں مدد کی۔ ٹرک میں آگ کو ریکارڈ وقت میں بجھا دیا گیا۔الشرقیہ صوبے کے گورنر ڈاکٹر ممدوح غراب نے دوسرے دن صبح اپنے دفتر میں مصری ڈرائیور طلعت سلیم کو اعزاز و اکرام سے نوازا۔ گورنر نے ہم وطنوں اور العاشر من رمضان شہر کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے طلعت کے دلیرانہ کردار کو بھرپور انداز سے خراج تحسین پیش کیا۔