تنخواہوں اور پنشن میں کٹوتی کی مخالفت، ریاست کی معاشی صورتحال ابتر
حیدرآباد۔ یکم جون (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر اپنی ناکام معاشی پالیسیوں اور بدانتظامی کی سزاء سرکاری ملازمین اور پنشنرس کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کے سی آر حکومت نے ریاست کو بدترین معاشی بحران اور قرض میں مبتلا کردیا ہے۔ لاک ڈائون کے بعد ریاست کی معاشی صورتحال مزید ابتر ہوگئی جبکہ قرض میں اضافہ ہوگیا۔ سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق ریاست کا مجموعی خسارہ 26,599 کروڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کے باوجود حکومت آبپاشی پراجکٹس پر توجہ مرکوز کرچکی ہے تاکہ کنٹراکٹرس سے کمیشن حاصل کیا جائے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرس کے وظائف میں کٹوتی کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں پر 22,393 کروڑ اور پنشن پر 9,122 کروڑ خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ 5855 کروڑ کی سبسیڈی دی جاتی ہے۔ چیف منسٹر کے مطابق ریاست کو قرض کی ادائیگی کے سلسلہ میں سالانہ 37 ہزار کروڑ بطور سود ادا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی وہ واحد ریاست ہے جس نے پنشنرس کے وظائف میں گزشتہ تین ماہ سے کٹوتی کی ہے۔ پنشنرس مختلف امراض کا شکار ہوتے ہیں اور ایسے وقت میں ان کے پنشن میں کٹوتی ناانصافی کے مترادف ہے۔ پنشن کی زیادہ تر رقم ادویات اور علاج پر خرچ ہوتی ہے۔ کے سی آر حکومت نے پنشن میں 50 فیصد کٹوتی کے ذریعہ غیر انسانی رویہ اختیار کیا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے پنشن میں کٹوتی کی مخالفت کی اس کے باوجود چیف منسٹر ماہ مئی میں 25 فیصد کٹوتی کے فیصلے پر اٹل ہے۔ انہوں نے سرکاری ملازمین اور پنشنرس کو مکمل ادائیگی اور حکومت سے معاشی صورتحال پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
