اپنی پہچان مٹانے کو کہا جاتا ہے

   

بزنسمین مسلمان دوست… آسام کا غریب مسلمان ’’میاں‘‘
چیف منسٹر آسام کی زہر افشانی … نفرتی عناصر بے لگام

رشیدالدین
’’میاں لوگوں کو ستائیں اور ایسی تکلیف دیں کہ وہ آسام چھوڑ کر چلے جائیں‘‘ یہ الفاظ بجرنگ دل یا آر ایس ایس کے کسی لیڈر کے نہیں بلکہ دستوری عہدہ پر فائز آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما کے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کیلئے شہرت رکھنے والے ہیمنت بسوا شرما نے آسام میں اسمبلی انتخابات کی مہم کا عملاً آغاز کردیا ہے تاکہ ابھی سے ہندو ووٹ بینک متحد کیا جاسکے۔ ہیمنت بسوا شرما کی جگہ اگر کوئی مسلمان نے یہ بیان دیا ہوتا تو وہ ناقابل ضمانت دفعات کے تحت جیل میں ہوتا۔ ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے اظہار کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے ، لہذا مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی میں مسابقت چل رہی ہے۔ زبانی نفرت ایک طرف ہے تو دوسری طرف ماب لنچنگ اور حملوں کے ذریعہ قتل و غارت گیری کا سلسلہ جاری ہے ۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہندوستان میں پانی کی قیمت ہے لیکن مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں۔ نریندر مودی کے وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے بعد ہندوتوا طاقتوں کو جیسے لائسنس مل گیا ہو تاکہ مسلمانوں کو جانی اور مالی طور پر نشانہ بنائیں۔ ملک کے وہ علاقے جہاں مسلم اقلیت کی آبادی کم ہے اور بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں نت نئے انداز میں مسلمانوں کو ہراساں کرتے ہوئے ان میں دوسرے درجہ کے شہری ہونے کا احساس پیدا کرنے کی سازش ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے ہندوستان میں مسلمانوں پر مظالم سے متعلق رپورٹ میں حقائق کی ترجمانی کی ہے ۔ بات چیف منسٹر کے آسام کی چل رہی تھی جنہوں نے دستور ، قانون اور جمہوریت کی تمام حدود سے تجاوز کرتے ہوئے ہندوؤں کو کھلے عام بھڑکانے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ SIR کے ذریعہ آسام میں 4 تا 5 لاکھ ’’میاں‘‘ ووٹرس کے نام نکالے جائیں گے۔ ایس آئی آر مہم کے سلسلہ میں عوام کو مسلم ناموں کے خلاف الیکشن کمیشن سے نمائندگی کی اپیل کی گئی۔ ہیمنت بسوا شرما نے عوام سے کہا کہ ’’میاں‘‘ طبقہ کو اس قدر ستایا جائے کہ وہ آسام چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں۔ میاں طبقہ کو تکلیف پہنچانا میری ذمہ داری ہے ۔ معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے میاں رکشہ والے کا کرایہ اگر 5 روپئے ہو تو اسے 4 روپئے ادا کریں۔ ہیمنت بسوا شرما کیلئے میاں کا مطلب مسلمان ہیں جنہیں وہ بنگلہ دیشی درانداز کہتے ہیں۔ جتنا ہوسکے میاں لوگوں کو تکلیف دو کہتے ہوئے چیف منسٹر نے کھلے عام فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوشش کی ہے ۔ سپریم کورٹ اگر واقعی غیر جانبدار اور آزاد ہے تو اسے فوری از خود کارروائی کرنی چاہئے۔ ہیمنت بسوا شرما ایک نہیں بلکہ دوسری ریاستوں میں ایسے نفرتی عناصر کی کمی نہیں۔ مسلمان رکشہ راں کو ایک روپیہ کم ادا کرنے سے کیا آسام کے ہندو خوشحال ہوجائیں گے ؟ ایک روپئے پر نفرت کی سیاست کرنے والے ہیمنت بسوا شرما بھول رہے ہیں کہ انہوں نے تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک روا رکھنے اور کسی بھی طرح کا بھید بھاؤ نہ کرنے کا دستور پر حلف لیا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ کانگریس سے بی جے پی میں شامل ہونے والے شرما اپنی مادر علمیہ (کانگریس) کے اصولوں اور پالیسی کو بھول گئے۔ جس پارٹی میں نظریاتی طور پر وابستگی ہوتی ہے ، اس کا اثر ہمیشہ دکھائی دینا چاہئے، چاہے کسی پارٹی میں رہیں۔ ہیمنت بسوا شرما دراصل کانگریس میں آر ایس ایس کے ایجنٹ کی طرح تھے اور بی جے پی میں شمولیت کے ساتھ ہی فرقہ پرستی کے برتن میں ابال آگیا۔ آسام میں بنگلہ دیشی درانداز کا لیبل لگاکر مسلمانوں پر مظالم کی ایک طویل دستان ہے۔ مسلمان ملک کے چاہے کسی حصہ میں ہوں ، ان کی ہندوستانی شہریت پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ SIR کے نام پر ملک بھر میں اقلیتوں کے ناموں کو حذف کرنے کی سازش ہے تاکہ آئندہ لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کی کامیابی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ بہار میں یہی کچھ کیا گیا اور اب اگلا نشانہ مغربی بنگال ہے ۔ 2024 میں الیکشن کمیشن کی مدد سے مودی حکومت تیسری مرتبہ برسر اقتدار آئی تھی اور مسلم ووٹ حذف کرتے ہوئے مخالف بی جے پی ووٹ ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں غیر معلنہ طور پر CAA ، NRC اور یکساں سیول کوڈ پر عمل آوری جاری ہے ۔ ہیمنت بسوا شرما اور دوسرے نفرتی عناصر کو ملک کی جدوجہد آزادی کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ مسلمانوں نے ملک کی آزادی اور انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کیلئے 1803 سے جدوجہد اور قربانیوں کا آغاز کیا تھا۔ انگریزوں کے خلاف علماء کی جدوجہد کی تاریخ 150 برسوں پر محیط ہے لیکن ملک کی آزادی کے ساتھ ہی علمائے اکرام نے سیاسی اور حکومتی سرگرمیوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے دینی سرگرمیوں میں مشغول رہنے کا فیصلہ کیا ۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ جن مجاہدین آزادی نے ملک کے لئے پھانسی کا پھندا چوم لیا تھا اور برسوں تک جیل کی صعوبتیں برداشت کیں ، ان کے قائم کردہ دینی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے اور ان کی نسلوں کو دیش دروہی کہا جارہا ہے ۔ جدوجہد آزادی میں جن کا کوئی رول نہیں ، آج ان کے وارث ملک کے اقتدار پر فائز ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران جدوجہد آزادی کی تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے مسلمانوں کی قربانیوں کو تاریخ کی کتابوں سے حذف کیا جارہا ہے تاکہ آنے والی نسلیں مجاہدین آزادی سے واقف نہ رہیں۔ اس صورتحال کے لئے ملک کی سیکولر پارٹیاں بھی برابر کی ذمہ دار ہیں۔ مودی حکومت نے مسلمانوں کو حاشیہ پر کردیا ہے اور ان کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی منصوبہ بندی ہے لیکن ان حالات کا مقابلہ کرنے سے سیکولر پارٹیاں خوفزدہ ہیں ۔ بی جے پی اور سنگھ پر یوار نے ملک میں فرقہ پرستی کا زہر کچھ اس طرح گھول دیا ہے کے سیکولر پارٹیاں بھی مسلمانوں پر مظالم کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے سے گریز کر رہی ہیں۔ انہیں مسلم پرست ہونے کے الزام میں ہندوؤں کے ووٹ بینک سے محرومی کا خوف لاحق ہے۔ ہندو ووٹ بینک کا ہوا کچھ اس طرح کھڑا کیا گیا کہ ماب لنچنگ اور بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف بھی سیکولر پارٹیاں کھل کر میدان میں آنے تیار نہیں۔ سیکولر پارٹیوں کے مصلحت آمیز رویہ نے فرقہ پرستوں کے حوصلو ں کو بلند کردیا ہے۔ یہی حال رہا تو پھر ہندو راشٹرا کی سمت پیش قدمی کو روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
چیف منسٹر آسام کا نفرت پر مبنی بیان جیسے ہی نظر سے گزرا ہمیں گزشتہ ہفتہ کی ایک تصویر یاد آگئی جو چیف منسٹر آسام کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتی ہے۔ جس طرح نریندر مودی باہری مسلمانوں کو اپنا دوست اور بھائی قرار دیتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں ، اسی طرح ہیمنت بسوا شرما کیلئے دولتمند اور صنعت کار مسلمان دوست ہیں اور آسام کے غریب مسلمان بنگلہ دیشی ہیں۔ دنیا بھر میں تجارتی سرگرمیوں کیلئے شہرت رکھنے والے ایم اے یوسف علی جو لولو ہائیپر مارٹ کے مینجنگ ڈائرکٹر ہیں، انہوں نے ڈاؤس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کی۔ ہر سال ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں سربراہان مملکت اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذمہ دار شرکت کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کے معاہدات طئے چاہتے ہیں۔ یوسف علی نے عالمی قائدین اور ہندوستان کے چیف منسٹرس کے ساتھ ملاقات کی تصاویر کو سوشیل میڈیا میں وائرل کیا۔ ان میں ایک تصویر چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا شرما کے ساتھ ہے۔ تصویر میں ہیمنت بسوا شرما کو یوسف علی کی تہنیت کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ یوسف علی کا تعلق کیرالا سے ہے اور آسام میں سرمایہ کاری کی امید کرتے ہوئے ہیمنت بسوا شرما انہیں خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آسام کے غریب مسلمانوں سے نفرت ہے تو پھر کیرالا کے صنعت کار یوسف علی سے محبت کیوں ؟ یہ دراصل فرقہ وارانہ سیاست کا حصہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی جاری رہے اور ملک کے باہر سوئٹزرلینڈ میں مسلم صنعت کاروں سے ملاقاتیں کی جائیں ۔ آسام کے مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر واپس بھیجنے کی بات کرنے والے چیف منسٹر آسام کو چاہئے کہ وہ شیخ حسینہ کو ہندوستان میں پناہ دینے کے خلاف آواز اٹھائیں۔ حکومت کے خلاف بغاوت کے ساتھ ہی شیخ حسینہ نے ہندوستان کا رخ کیا اور نریندر مودی حکومت ان کی مہمان نوازی میں مصروف ہے۔ جب بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کی ہندوستان آؤ بھگت کر رہا ہے تو پھر بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کیوں ؟ اتراکھنڈ کے چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی بھی ہیمنت بسوا شرما کے راستہ پر ہیں، انہوں نے اتراکھنڈ کی 50 مندروں میں غیر ہندوؤں کے داخلہ پر پابندی عائد کی جارہی ہے۔ نفرتی بیانات کے معاملہ میں پشکر سنگھ دھامی ملک میں پہلے نمبر پر ہیں۔ چاردھام کے تحت 50 مندروں میں غیر ہندو کے نام پر صرف مسلمانوں اور عیسائیوں کے داخلہ پر پابندی کی تجویز ہیں جبکہ سکھ ، جین اور بدھ مذاہب کے ماننے والے پابندی سے مستثنیٰ رہیں گے۔ غیر ہندو کے نام پر اترا کھنڈ میں اصل نشانہ مسلمان ہیں۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے موجودہ صورتحال پر یہ شعر کہا تھا ؎
اپنی پہچان مٹانے کو کہا جاتا ہے
بستیاں چھوڑکے جانے کو کہا جاتا ہے