نئی دہلی : ہندوستان فوج کی شاندار روایت کی انتہائی مضبوط کڑیوں میں ایک نوشیرا کا شیر،عظیم محب وطن برگیڈئیر محمد عثمان کا آج 15جولائی کو یوم پیدائش ہے لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ ان کی قربانیوں کو تقریباً بھول چکے ہیں۔ ابھی حال ہی میں 3 جولائی کو ان کا یوم شہادت خاموشی کے ساتھ گذر گیا۔ ہمارے اپنے لوگوں نے انہیں یاد تک نہیں کیا۔ان خیالات کا اظہار سابق آئی پی ایس افسر ایم ڈبلیو انصاری نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ بریگیڈیئر محمد عثمان وہ تھے جن کے بارے میں فوجی مؤرخین کہتے ہیں کہ اگر وہ زندہ رہتے توہندوستان کے پہلے مسلم آرمی چیف بھی ہوتے ۔ حکومت پاکستان نے بھی انہیں ملکی فوج کا سربراہ بننے کی پیش کش کی تھی لیکن انہوں نے مادر وطن ہندوستان پر ہی اپنی جان نچھاور کرنے کو ترجیح دی اور پاکستانی پیشکش کو مسترد کرکے وطن عزیز کی بے لوث خدمت کی خاطر واپس آگئے ۔اترپردیش کے اعظم گڑھ کے بی بی پور قصبہ میں پیدا ہوئے برگیڈئیر محمد عثمان ہندوستانی فوج افسران کے اس شروعاتی بیچ میں شامل تھے ، جن کی ٹریننگ برطانیہ میں ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ میں اپنی قیادت کے لیے قابل تعریف کارکردگی انجام دینے اور کئی بار ترقی حاصل کرنے والے برگیڈیئر محمدعثمان 1947 میں ہند- پاک جنگ کے وقت اس پچاس پیرا بریگیڈ کے کمانڈر تھے ، جنہوں نے نوشیرا میں تاریخی جیت حاصل کی تھی۔اسی وجہ سے انہیںنوشیرا کا شیر لقب ملا تھا۔