اپنے وکیل کو کامیاب کرنے کیلئے دوباک میں مجلس خاموش : ہنمنت راؤ

   

امیدوار کے انتخاب میں کانگریس کی کوتاہی، دوباک کی شکست پر کانگریس قائدین کی متضاد رائے
حیدرآباد۔ دوباک کے ضمنی چناؤ میں بدترین شکست کی وجوہات کے سلسلہ میں کانگریس پارٹی حلقوں میں مختلف وجوہات بیان کی جارہی ہیں۔ پارٹی نے تمام سینئر قائدین کو انتخابی مہم میں جھونک دیا تھا اس کے باوجود پارٹی امیدوار مشکل سے اپنی ضمانت بچا سکا۔ سینئر قائدین کی دن رات مہم کے باوجود کانگریس کو دوسرا مقام حاصل نہیں ہوا جس پر ایک طرف پارٹی کیڈر حیرت میں ہے تو دوسری طرف سینئر قائدین اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں وجوہات بیان کررہے ہیں۔ بیشتر قائدین کا احساس ہے کہ کانگریس نے امیدوار کے انتخاب میں بڑی غلطی کی جس کا خمیازہ شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ کانگریس کو ٹی آر ایس سے آنے والے قائد کو امیدوار بنانے کے بجائے کسی مقامی کانگریسی قائد کو امیدوار بنانا چاہیئے تھا۔ عوام ٹی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے سرینواس ریڈی کو ٹکٹ دینے پر خوش نہیں تھے۔ سرینواس ریڈی نے امیدواری کے اعلان سے تین دن قبل کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ رائے دہندوں میں یہ افواہ پھیلادی گئی تھی کہ ٹی آر ایس نے خود سرینواس ریڈی کو کانگریس میں بھیجا ہے تاکہ بی جے پی کو کامیاب ہونے سے روکا جاسکے۔ رائے دہی سے ایک دن قبل سوشیل میڈیا کے ذریعہ مہم چلائی گئی کہ سرینواس ریڈی نے ٹی آر ایس میں واپسی کرلی ہے۔ اس مہم کو اس شدت کے ساتھ چلایا گیا کہ کانگریس قائدین اس کا جواب موثر انداز میں دینے میں ناکام رہے۔ سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے شکست کی وجوہات کا جائزہ لینے کیلئے کور کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایل آر ایس اسکیم ، دھرانی پورٹل، بے روزگاری اور فصلوں کو نقصانات سے عام آدمی اور کسان حکومت سے سخت ناراض تھے لیکن کانگریس عوامی ناراضگی کو اپنے حق میں ووٹوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا احساس ہے کہ امیدوار کے انتخاب میں غلطی ہوئی ہے ۔ سرینواس ریڈی کے بجائے کسی مقامی کانگریسی قائد کو امیدوار بنایا جاتا تو اس قدر بے عزتی نہ ہوتی۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ بی جے پی کے رگھونندن راؤ کے حق میں عوامی ہمدردی تھی کیونکہ وہ دو مرتبہ اسمبلی، ایک مرتبہ پارلیمنٹ اور ایم ایل سی نشست کے انتخابات میں مسلسل ناکام ہوتے رہے ہیں۔ عوام نے انہیں ایک موقع دینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ ہنمنت راؤ نے ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کو مشورہ دیا کہ وہ شکست کی وجوہات کا جائزہ لینے سے پہلے اس بات کا جواب دیں کہ ان کی حلیف جماعت مجلس کی قیادت نے دوباک میں ٹی آر ایس کو ووٹ دینے کی رائے دہندوں سے اپیل کیوں نہیں کی۔ ضمنی چناؤ میں مجلس کے صدر اور فلور لیڈر نے اقلیتی رائے دہندوں کیلئے کوئی بیان جاری نہیں کیا کیونکہ رگھونندن راؤ مجلسی قیادت کے مقدمات میں وکیل ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ مجلس کی خاموشی کی وجوہات کا کے ٹی آر کو پہلے جائزہ لینا چاہیئے۔ رگھونندن راؤ کی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کیلئے مجلسی قیادت نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔