اپنی سوانح حیات میں سابق صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کا تاثر
سونیا گاندھی پارٹی کی قیادت میں ناکام ، متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم سے دونوں تلگو ریاستوں میں کانگریس کمزور ہوگئی
حیدرآباد :۔ سابق صدر جمہوریہ پرنب مکرجی متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم اور علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے سخت مخالف تھے ۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات ’ The Presidential year 2012-2017 ‘ میں اس کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے ۔ صدر جمہوریہ منتخب ہونے سے قبل پرنب مکرجی کا کانگریس کے سرکردہ قائدین میں شمار ہوتا تھا ۔ ان کی سوانح حیات منظر عام پر آئی ہے ۔ جس میں انہوں نے علحدہ تلنگانہ ریاست کے تعلق سے اپنے خیالات و احساسات کو قلم بند کیا ہے ۔ وہ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کے حق میں نہیں تھے لیکن متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم کا کام ان کے ہاتھ سے ہوگا جس کی انہوں نے کبھی توقع بھی نہیں کی تھی ۔ بحیثیت صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا گزٹ نوٹیفیکشن جاری کیا ہے ۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ کانگریس کو سب سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ فراہم کرنے والی آندھرا پردیش ہے اگر اس کو تقسیم کیا جاتا ہے تو دونوں تلگو ریاستوں میں کانگریس پارٹی کمزور ہوجانے کا انھیں احساس تھا ۔ پرنب مکرجی نے کہا ہے کہ کانگریس کے طاقتور مضبوط ریاستوں میں کانگریس پارٹی کی شکست سے کانگریس اقتدار سے محروم ہوئی ہے ۔ انھیں راشٹر پتی بھون روانہ کرنے کے بعد کانگریس ہائی کمان کے موقف میں تبدیلی آئی ہے ۔ اہم فیصلوں میں جلد بازی کی گئی ۔ پارٹی کو چلانے میں سونیا گاندھی کے ناکامی کے پیچھے اس وقت کے حالت بھی برابر کے ذمہ دار تھے ۔ 2014 کے عام انتخابات میں معلق پارلیمنٹ کے وجود میں آنے اور بی جے پی 195 تا 200 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرنے کی توقع کی جارہی تھی ۔ تاہم چند ریاستوں میں کانگریس کے ناقص مظاہرے سے اس کا نتائج پر اثر پڑا ہے ۔۔