اپوزیشن اتحاد کے نام سے بی جے پی چراغ پا ‘ الیکشن کمیشن یا عدالت سے رجوع ہونے پر غور

,

   

سوشیل میڈیا پر ٹرول آرمی بھی سرگرم ۔ بالواسطہ طور پر ملک کے نام کی تضحیک ۔ بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کی پہلی جیت ۔ ماہرین کی رائے

 محمد مبشرالدین خرم

حیدرآباد۔18جولائی ۔ اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں اتحاد کے نام کو قطعیت دیئے جانے پر برسراقتدار بی جے پی نیندیں حرام ہونے لگی ہیں اور وہ اپوزیشن اتحاد کے نام کے خلاف الیکشن کمیشن اور عدالت سے رجوع ہونے پر غور کرنے لگی ہے۔ بنگلورو میں اپوزیشن اجلاس میں نئے اتحاد کو INDIA نام دینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ہندستانی اکثریت کے نمائندہ اتحاد کا نام ہے ۔ اپوزیشن اتحاد نے جو نام دینے کا فیصلہ کیا ہے اس نام نے ہی بی جے پی اور اتحادیوں کے علاوہ آر ایس ایس کو چراغ پا کردیا ہے ۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نے INDIA کے نام سے جو اتحاد تشکیل دیا ہے وہ ’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوزیوالائنس ‘ کا مخفف ہے ۔ ’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوزیو الائنس‘ یعنی ہندوستانی قومی ترقیاتی اجتماعی اتحاد کے نام سے چراغ پا ہندوتوا تنظیمیں اب اتحاد کے نام سے ہی خوفزدہ ہوچکی ہیں۔ اپوزیشن اتحاد نے اپنے دوسرے اجلاس میں نام کو قطعیت دے کر تیسرے اجلاس کا اعلان کردیا اس کے ساتھ ہی ہندوتوا تنظیموں نے اپوزیشن اتحاد کو نشانہ بنانے INDIAکے ایسے فل فارم جاری کرنے لگے ہیں کہ انہیں اپوزیشن کی دشمنی میں اس بات کا بھی احساس نہیں ہورہا ہے وہ عالمی سطح پر اپوزیشن اتحاد کیلئے الفاظ کو ملک کی تضحیک و توہین کے مرتکب بننے لگے ہیں۔ اپوزیشن کے اتحاد کے نام کو قطعیت دئیے جانے کے ساتھ ہی وہ ٹولیاں جو بی جے پی کی ’ٹرول آرمی ‘ ہیں نے بغیر سوچے سمجھے اپوزیشن اتحاد کے نام کو بگاڑنے کی کوشش کے دوران ہندستان کی شبیہہ کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے۔ٹوئیٹر پر اپوزیشن اتحاد سے متعلق چند گھنٹوں میں لاکھوں ٹوئیٹ نے ٹرینڈنگ میں #INDIA کے علاوہ #I-N-D-I-Aکو لادیا ہے اور اس مہم کو دیکھتے ہوئے بی جے پی اور این ڈی اے نے اپوزیشن اتحاد کے نام کے خلاف الیکشن کمیشن اور عدالت سے رجوع ہونے پر غور شروع کردیا ہے جبکہ عام عوام کی جانب سے اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ہندوتوا تنظیموں کو INDIA کے نام سے نفرت ظاہر ہورہی ہے ۔ اپوزیشن نے یہ واضح کردیا ہے کہ 2024 انتخابات انڈیا بمقابلہ این ڈی اے ہونگے اور ان انتخابات میں ہندوستان کو کامیابی حاصل ہوگی۔ این ڈی اے اور بی جے پی اب تک خود کو محب وطن کے طور پر پیش کرتی رہی لیکن اب جبکہ اپوزیشن کے اتحاد نے جب اپنا نام ہی INDIAرکھا ہے تو ایسے میں بی جے پی کے علاوہ این ڈی اے میں شامل جماعتوں کو INDIAسے مقابلہ کرنا ہوگا جس سے یہ جماعتیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر بالواسطہ ہندوستان کو نشانہ بنانے لگی ہیں۔ سیاسی مبصرین اور ماہرین کے علاوہ ماہر قانون داں کا کہناہے کہ اگر بی جے پی اور این ڈی اے میں شامل جماعتیں اپوزیشن اتحاد کے نام پر اعتراضـ کرکے الیکشن کمیشن یا عدالت سے رجوع ہوتی ہیں تو انہیں کوئی راحت ملنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ یہ اتحاد کوئی سیاسی جماعت یا اس اتحاد کا نام کوئی رجسٹرڈ نہیں ہے کہ اس کے خلاف کوئی عدالت یا الیکشن کمیشن سنوائی کرے ۔ سیاسی مبصرین نے اپوزیشن اتحاد کے نام پر ہی آرایس ایس اور بی جے پی کے چراغ پا ہونے کو اپوزیشن کی پہلی بڑی کامیابی قراردینا شروع کردیا ہے کیونکہ اب صورتحال بی جے پی بمقابلہ ہندوستان ہی عام ذہن میں تصور ابھرے گا اور بی جے پی ہو یا کسی اور جماعت کے قائدین ہوں وہ اپنی تقریروں میں اپوزیشن اتحاد کا نام لیتے ہوئے برا بھلا نہیں کہہ سکتے اور نہ اس اتحاد کو مجموعی طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ اگر نشانہ بنایا جاتا ہے تو ان کی یہ تقاریر ان کے خلاف جاسکتی ہیں اسی لئے برسراقتدار بی جے پی اور آرایس ایس و ہندوتوا تنظیموں کو آئندہ انتخابات کی مہم کے دوران محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا۔