مجلس کا رول بی ٹیم کی طرح، بی آر ایس نے پارلیمنٹ میں مودی حکومت کی تائید کی
حیدرآباد۔/16 جولائی، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ این ڈی اے کی حلیف اور باہر سے تائید کرنے والی جماعتوں کو بنگلور کے اپوزیشن اجلاس میں مدعو کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے اپوزیشن اجلاس میں مجلس اور بی آر ایس کو مدعو نہ کرنے سے متعلق صدر مجلس اسد اویسی کی شکایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے کے ساتھ حکومت میں شامل جماعتوں اور باہر سے تائید کرنے والوں کیلئے اپوزیشن کے پلیٹ فارم پر کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس دراصل بی جے پی کی بی ٹیم ہے جبکہ بی آر ایس اس کی مسلمہ پارٹنر ہے۔ پارلیمنٹ میں مخالف کسان بل، جی ایس ٹی، نوٹ بندی، دفعہ 370 کی برخواستگی اور طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر بی آر ایس نے بی جے پی کے حق میں نہ صرف تائید کی تھی بلکہ پارلیمنٹ میں ووٹ دیا تھا۔ اس طرح بی آر ایس‘ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کی پارٹنر ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مجلس چھپا رستم ہے اور ان کو کامیاب بنانے کیلئے کوشش کررہی ہے لہذا مجلس اور بی آر ایس کو اپوزیشن کے اجلاس میں مدعو کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ راہول گاندھی نے کھمم میں واضح کردیا کہ ان دونوں پارٹیوں کو اپوزیشن کے اجلاس میں مدعو نہیں کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے واضح کردیا کہ موجودہ موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ر