حکومت کی تبدیلی پر میں گھر پر آرام کرلوں گا ۔ ریاست کا نقصان ہونے کا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 18 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر کا انتخابی جلسوں میں اچانک موقف تبدیل ہوگیا ہے۔ کل تک ترقی، فلاح و بہبود اور امن و خوشحالی دیکھ کر ووٹ دینے کی عوام سے اپیل کرنے والے چیف منسٹر آج اپوزیشن جماعتوں پر ٹوٹ پڑتے ہوئے انہیں بددعائیں دے رہے ہیں ۔ اپوزیشن قائدین کو پاگل کتے قرار دے رہے ہیں۔ انتخابات میں بی آر ایس کو شکست ہوجانے پر گھر میں آرام کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ ہر دن تین تا چار انتخابی جلسوں سے خطاب کرنے والے چیف منسٹر کے جارحانہ اور برہم موقف سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے۔ کیا کانگریس کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت سے چیف منسٹر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے۔ اس پر تبادلہ خیال شروع ہوگیا۔ اب تک چیف منسٹر کے سی آر کانگریس کو کامیاب بنانے پر دھرانی پوٹل برخاست کرنے، ریتو بندھو اسکیم ختم کردینے، 24 گھنٹے کے بجائے صرف 3 گھنٹے برقی سربراہ ہونے کا دعویٰ کررہے تھے۔ کانگریس کی معلنہ 6 گیارنٹی کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کرناٹک کا حوالہ دے رہے تھے۔ چند جلسوں میں بی آر ایس پارٹی کے منشور کی بھی تشہیر کررہے تھے۔ اب وہ کانگریس کو ووٹ دینے کے خلاف عوام کو ڈرانے دھمکانے پر اتر آئے ہیں۔ کانگریس کو ووٹ دینا خود کے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔ بی آر ایس کو شکست ہوجانے پر گھر میں آرام کرلینے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ کانگریس کو نوجوانوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔ کانگریس کو ووٹ دینا شیر کی سواری کرنے کے برابر قرار دے رہے ہیں۔ کرنٹ چاہئے یا کانگریس چاہئے فیصلہ کرلینے کا عوام کو مشورہ دے رہے ہیں۔ جذبہ تلنگانہ کو دوبارہ عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ کانگریس کے برسراقتدار آنے پر حیدرآباد میں فسادات اور کرفیو نافذ ہوجانے کا دعویٰ کرتے ہوئے خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ن